تکبیر نیوز (سنڈرلینڈ): سنڈرلینڈ میں کار دریائے وئیر میں گرنے کے نتیجے میں جان کی بازی ہارنے والے تین نوجوانوں کی شناخت ہوگئی ہے، جبکہ گاڑی میں موجود چوتھے 17 سالہ لڑکے کو خطرناک ڈرائیونگ سے اموات کا سبب بننے کے شبہے میں گرفتار کیا گیا ہے۔
نارتھمبریا پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی شناخت 17 سالہ جیکسن ڈیوک، 16 سالہ لیوک ایتھرج اور 16 سالہ زارا شا کے نام سے ہوئی ہے۔
جیکسن اور لیوک کا تعلق سنڈرلینڈ کے علاقے سے تھا جبکہ زارا ہاؤٹن لی اسپرنگ کی رہائشی تھیں۔
پولیس افسران تینوں نوجوانوں کے اہل خانہ کو معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
آڈی اے 3 دریائے وئیر میں جاگری
پولیس کو منگل کی دوپہر ایک بج کر 30 منٹ سے کچھ دیر قبل شہریوں کی جانب سے اطلاع ملی تھی کہ ایک سیاہ رنگ کی آڈی اے 3 پینز بینک کے مقام پر سڑک سے بے قابو ہوکر وئیرماؤتھ برج کے قریب دریائے وئیر میں جاگری ہے۔
گاڑی میں چار نوجوان موجود تھے۔ امدادی کارروائی کے دوران جیکسن ڈیوک، لیوک ایتھرج اور زارا شا کی لاشیں پانی سے نکالی گئیں۔
گاڑی میں موجود ایک اور 17 سالہ لڑکا معمولی چوٹوں کے ساتھ بحفاظت باہر نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔
17 سالہ لڑکا گرفتار، ڈرائیور کی شناخت ابھی زیرِ تفتیش
نارتھمبریا پولیس کے مطابق 17 سالہ لڑکے کو خطرناک ڈرائیونگ کے ذریعے اموات کا سبب بننے کے شبہے میں گرفتار کیا گیا ہے اور وہ پولیس کی حراست میں ہے۔
تاہم پولیس نے واضح کیا ہے کہ واقعے کے وقت گاڑی کون چلا رہا تھا، اس کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات ابھی جاری ہیں۔
ابتدائی تحقیقات میں پولیس کو یقین ہے کہ واقعے میں کوئی دوسری گاڑی ملوث نہیں تھی۔
گرفتاری محض شبہے کی بنیاد پر کی گئی ہے اور گرفتار نوجوان پر جرم ثابت نہیں ہوا۔
’’تینوں کے سامنے پوری زندگی پڑی تھی‘‘
سنڈرلینڈ کے ایریا کمانڈر چیف سپرنٹنڈنٹ اسکاٹ کووی نے کہا کہ لیوک، جیکسن اور زارا کی موت نے ان کے اہل خانہ اور دوستوں کو ناقابلِ تصور دکھ اور صدمے سے دوچار کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تینوں نوجوانوں کے سامنے پوری زندگی پڑی تھی اور ان کی کمی شدت سے محسوس کی جائے گی۔
پولیس نے مقامی برادری سے اپیل کی ہے کہ جاں بحق نوجوانوں کے خاندانوں کی نجی زندگی کا احترام کیا جائے۔
سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں سے گریز کی اپیل
چیف سپرنٹنڈنٹ اسکاٹ کووی کے مطابق گاڑی کے دریا میں گرنے سے پہلے کے حالات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور ابھی تفتیش ابتدائی مرحلے میں ہے۔
انہوں نے عوام سے خصوصاً سوشل میڈیا پر واقعے کے بارے میں قیاس آرائیوں سے گریز کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایسی گفتگو کے جاں بحق نوجوانوں کے اہل خانہ پر ممکنہ اثرات کو مدنظر رکھا جائے۔
