تکبیر نیوز (بلیک پول): برطانیہ میں خود کو سنگل ظاہر کرکے تقریباً پانچ سال تک 70 ہزار 967 پاؤنڈ سے زائد یونیورسل کریڈٹ حاصل کرنے والے 58 سالہ شخص کو بینیفٹ فراڈ کا مجرم قرار دے دیا گیا، جبکہ اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر موجود منگنی کی تصویر بھی تحقیقات میں اہم ثبوت بن گئی۔
اسپرنگ فیلڈ روڈ، بلیک پول کے رہائشی کولن ہیگارٹی نے 19 فروری 2020 سے 18 ستمبر 2025 کے درمیان خود کو سنگل ظاہر کرتے ہوئے مجموعی طور پر 70,967.89 پاؤنڈ یونیورسل کریڈٹ حاصل کیا، حالانکہ وہ اپنی ساتھی کے ساتھ رہ رہا تھا۔
معاملہ جون 2025 میں اس وقت سامنے آیا جب ایک شہری نے حکام کو اطلاع دی کہ ہیگارٹی اپنے اصل رہائشی حالات ظاہر نہیں کر رہا۔
بینک ریکارڈ اور فیس بک تصویر سے حقیقت سامنے آگئی
محکمہ برائے کام و پنشن (DWP) کے تفتیش کاروں نے تحقیقات کے دوران بینک ریکارڈ حاصل کیا، جس سے ہیگارٹی اور اس کی ساتھی کے درمیان مالی تعلق سامنے آیا۔
تحقیقات میں سوشل میڈیا سے بھی شواہد حاصل کیے گئے، جن میں فیس بک پر موجود ایک تصویر شامل تھی جس میں ہیگارٹی کی اپنی ساتھی سے منگنی ظاہر ہو رہی تھی۔
تفتیش کے دوران ہیگارٹی نے اعتراف کیا کہ اس نے بینیفٹس حاصل کرتے ہوئے خود کو بے ایمانی سے سنگل ظاہر کیا اور یہ بھی نہیں بتایا کہ اس کی ساتھی اس کے پتے پر رہ رہی تھی، حالانکہ اسے معلوم تھا کہ اس سے یونیورسل کریڈٹ کی رقم متاثر ہوسکتی ہے۔
ہیگارٹی نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اسے خدشہ تھا کہ اپنی ساتھی کے بارے میں بتانے سے اسی گھر میں رہنے والے ایک دوسرے شخص کو ملنے والی ادائیگیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔
10 ماہ قید کی سزا معطل
پریسٹن کراؤن کورٹ میں جمعہ کے روز ہیگارٹی کو 10 ماہ قید کی سزا سنائی گئی، تاہم سزا کو 12 ماہ کے لیے معطل کردیا گیا۔ عدالت نے اسے 100 گھنٹے بلا معاوضہ کام کرنے کا بھی حکم دیا۔
DWP کے مطابق غلط طور پر ادا کیے گئے تمام 70,967.89 پاؤنڈ کی واپسی کے لیے کارروائی کی جائے گی۔
وزیر برائے جدت، فراڈ اور ڈیٹا لیلین گرین ووڈ نے کہا کہ بینیفٹ فراڈ سے عوامی وسائل متاثر ہوتے ہیں اور یہ رقم ان لوگوں کی مدد اور سرکاری خدمات پر خرچ ہونی چاہیے جو حقیقی طور پر اس کے مستحق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بینیفٹ نظام کو دھوکا دینے والوں کو نہ صرف رقم واپس کرنا پڑ سکتی ہے بلکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔
حکام نے بینیفٹس حاصل کرنے والے افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے حالات میں ہونے والی تبدیلیوں سے بروقت آگاہ کریں تاکہ انہیں درست رقم ملے اور غیر ضروری واجبات سے بچا جاسکے۔
