تکبیر نیوز (لندن): لندن میں موبائل فون چھیننے کی وارداتوں کے خلاف میٹروپولیٹن پولیس کی کارروائی کے دوران ایک 14 سالہ لڑکے کو خاتون کا فون چھیننے کی مبینہ کوشش کے شبہے میں گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس کے تعاقب کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سادہ لباس پولیس اہلکاروں نے ٹاور برج کے قریب ایک خاتون سے مبینہ طور پر موبائل فون چھیننے کی کوشش کے بعد لڑکے کا تعاقب شروع کیا۔
پولیس کی غیر نشان زدہ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار اہلکاروں نے برمنڈزی کی سڑکوں پر تقریباً پانچ منٹ تک اس کا پیچھا کیا۔
ایک مرحلے پر پولیس اہلکاروں کو لگا کہ وہ لڑکے کو کھو چکے ہیں، تاہم ایک شہری نے انہیں اس سمت کی نشاندہی کی جہاں اسے جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ اس کے بعد موٹر سائیکل پر موجود پولیس اہلکار نے دوبارہ اس کا سراغ لگایا اور بالآخر اسے روک لیا گیا۔
لڑکے کے پاس سے کوئی موبائل فون برآمد نہیں ہوا
رپورٹ کے مطابق 14 سالہ لڑکے کے قبضے سے کوئی موبائل فون برآمد نہیں ہوا، تاہم پولیس کا کہنا تھا کہ مزید پوچھ گچھ کے لیے اسے حراست میں لینے کے لیے کافی شواہد موجود تھے۔
بعد ازاں لڑکے پر چاقو رکھنے کا الزام عائد کیا گیا، جبکہ فون چھیننے کی مبینہ کوشش کے معاملے میں اس کے خلاف مزید کارروائی نہیں کی گئی۔
چاقو رکھنے کا الزام عدالت میں ثابت ہونا ابھی باقی ہے۔
نوجوانوں کو فون چوری کے لیے استعمال کرنے کا خدشہ
اس کارروائی کی قیادت کرنے والے سارجنٹ بین اگوئرے کے مطابق سڑکوں پر موبائل فون چھیننے کی وارداتوں میں کم عمر اور نوجوان افراد بڑی تعداد میں ملوث پائے جاتے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بعض نوجوانوں کو جرائم پیشہ عناصر پیسوں کے عوض تیز رفتار الیکٹرک بائیکس پر موبائل فون چھیننے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
پولیس کو شبہ ہے کہ سڑکوں پر فون چھیننے والے بعض افراد کے پیچھے منظم جرائم پیشہ گروہ بھی کام کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق کارروائی کا مقصد صرف واردات کرنے والوں کو پکڑنا نہیں بلکہ ان کے پیچھے موجود ممکنہ نیٹ ورکس تک پہنچنا بھی ہے۔
اپریل سے ستمبر تک 223 گرفتاریاں
میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق موبائل فون چوری کے خلاف کارروائیوں کے دوران اپریل سے ستمبر تک 223 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 193 گاڑیاں ضبط کی گئیں۔
پولیس نے واٹرلو کو فون اور دیگر اشیا چھیننے کی وارداتوں کے نمایاں مقامات میں شامل کیا ہے، جہاں سیاحوں اور روزانہ سفر کرنے والوں کی بڑی تعداد موجود رہتی ہے۔
پولیس کے مطابق مخصوص کارروائیوں کے نتیجے میں واٹرلو میں اس نوعیت کے جرائم میں 22 فیصد کمی آئی، جبکہ مجموعی طور پر لندن میں موبائل فون چوری کے واقعات میں 15.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
جدید ٹیکنالوجی سے فون چوروں کا تعاقب
آپریشن کیچ کلا کے تحت پولیس سی سی ٹی وی، براہِ راست چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی، فرانزک شواہد، ڈرونز اور خصوصی پولیس ٹیموں سمیت مختلف ذرائع استعمال کر رہی ہے۔
پولیس کے مطابق بعض کم عمر مشتبہ افراد کے پاس سے ایلومینیم فوائل بھی ملتا ہے، جسے چوری شدہ فون لپیٹنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ اس کے سگنل اور مقام کا سراغ لگانا مشکل بنایا جاسکے۔
میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ موبائل فون چھیننے کی وارداتوں میں ملوث افراد کے ساتھ ساتھ ان کے پیچھے کام کرنے والے ممکنہ منظم جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہیں۔
