تکبیر نیوز (سنڈرلینڈ): برطانیہ کے شہر سنڈرلینڈ میں ایک افسوسناک واقعے میں کار دریائے وئیر میں جاگری، جس کے نتیجے میں دو نوعمر لڑکوں اور ایک نوعمر لڑکی سمیت تین نوجوان جان کی بازی ہار گئے، جبکہ گاڑی میں سوار 17 سالہ لڑکے کو واقعے کے سلسلے میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔
نارتھمبریا پولیس کے مطابق منگل کی دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے اطلاع ملی کہ ایک سیاہ رنگ کی آڈی اے 3 پینز بینک کے قریب سڑک سے اتر کر وئیرماؤتھ برج کے نزدیک دریائے وئیر میں جاگری۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت گاڑی میں چار افراد سوار تھے۔ بڑے پیمانے پر تلاش اور امدادی کارروائی کے دوران دو نوعمر لڑکوں اور ایک نوعمر لڑکی کی لاشیں پانی سے نکال لی گئیں۔
گاڑی میں موجود ایک 17 سالہ لڑکا بحفاظت باہر نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔ پولیس کے مطابق اسے واقعے کے سلسلے میں گرفتار کرلیا گیا ہے اور اس وقت وہ اسپتال میں زیر علاج ہے، جہاں اس کی چوٹیں سنگین نوعیت کی نہیں ہیں۔ گرفتاری کا مطلب جرم ثابت ہونا نہیں اور واقعے کے مکمل حالات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
کئی گھنٹے تک امدادی کارروائی
دریا میں گاڑی گرنے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، ایمبولینس، رائل نیشنل لائف بوٹ انسٹی ٹیوشن، کوسٹ گارڈ اور فائر اینڈ ریسکیو سروس کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔
ٹائن اینڈ وئیر فائر اینڈ ریسکیو سروس نے دو فائر انجن اور ایک فائر بوٹ بھی امدادی کارروائی کے لیے روانہ کی۔ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی تلاش کا زیادہ تر مرکز دریائے وئیر کے جنوبی کنارے پر پینز بینک کے اطراف رہا۔
پولیس نے قیاس آرائیوں سے گریز کی اپیل کردی
سنڈرلینڈ کے ایریا کمانڈر چیف سپرنٹنڈنٹ اسکاٹ کووی نے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ تین نوجوانوں کی جانیں ضائع ہوئی ہیں اور پولیس کی ہمدردیاں ان کے اہل خانہ، دوستوں اور واقعے سے متاثر ہونے والے تمام افراد کے ساتھ ہیں۔
انہوں نے امدادی کارروائی میں حصہ لینے والے تمام اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات ابھی انتہائی ابتدائی مرحلے میں ہیں، اس لیے عوام واقعے کی وجوہات کے بارے میں قیاس آرائیوں سے گریز کریں۔
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ اسے پہلے زور دار آواز سنائی دی، جس کے بعد پانی میں کسی بھاری چیز کے گرنے جیسی آواز آئی اور کچھ ہی دیر بعد ہنگامی سروسز کی گاڑیوں کے سائرن سنائی دینے لگے۔
پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والے تینوں نوجوانوں کے اہل خانہ کو اطلاع دے دی گئی ہے اور افسران انہیں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ واقعے کے اصل حالات معلوم کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
