تکبیر نیوز (برمنگھم): برمنگھم میں حج کی سعادت حاصل کرنے کیلئے مکہ مکرمہ جانے کی تیاری کرنے والے افراد سے مجموعی طور پر تقریباً ایک لاکھ پاؤنڈ کے مبینہ فراڈ کی تحقیقات کے دوران پولیس نے دو افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔
ویسٹ مڈلینڈز پولیس کے مطابق متاثرین کو بتایا گیا تھا کہ ان سے رقم وصول کرنے کے عوض حج ویزا، سفر اور رہائش کے انتظامات کیے جائیں گے، تاہم مبینہ طور پر یہ انتظامات نہیں کیے گئے۔
پولیس کا خیال ہے کہ تقریباً ایک درجن افراد اس مبینہ فراڈ سے متاثر ہوئے، جن میں زیادہ تر برمنگھم کے علاقے سے تعلق رکھنے والے عمر رسیدہ افراد ہیں۔
متاثرین کو مجموعی طور پر تقریباً £100,000 کا نقصان پہنچنے کا تخمینہ ہے۔
برمنگھم میں تین مقامات پر پولیس کے چھاپے
تحقیقات کے سلسلے میں ویسٹ مڈلینڈز پولیس نے 29 ستمبر کو برمنگھم میں تین مختلف مقامات پر تلاشی کے وارنٹ پر کارروائی کی۔
کارروائی کے دوران 22 اور 23 سالہ دو افراد کو گرفتار کیا گیا۔
پولیس کے مطابق دونوں کو جھوٹی نمائندگی کے ذریعے فراڈ اور منی لانڈرنگ کے شبہ میں حراست میں لیا گیا ہے۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق دونوں افراد پولیس حراست میں ہیں اور ان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔
تاحال ان افراد پر باقاعدہ الزام عائد کیے جانے یا عدالت میں جرم ثابت ہونے کی کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔
زیادہ تر متاثرین عمر رسیدہ افراد
پولیس کے مطابق تحقیقات میں اب تک سامنے آنے والے تقریباً ایک درجن متاثرین میں بڑی تعداد عمر رسیدہ افراد کی ہے۔
انہیں مبینہ طور پر یقین دلایا گیا تھا کہ ادا کی جانے والی رقم کے بدلے حج کیلئے ضروری ویزا، سفری اور رہائشی انتظامات کیے جائیں گے۔
تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ یہ انتظامات عملی شکل اختیار نہیں کرسکے اور متاثرین کو مجموعی طور پر تقریباً ایک لاکھ پاؤنڈ کا نقصان ہوا۔
اکنامک کرائم یونٹ کی تحقیقات جاری
اس معاملے کی تحقیقات ویسٹ مڈلینڈز پولیس کے اکنامک کرائم یونٹ کی جانب سے کی جارہی ہیں، جو فراڈ اور پیچیدہ مالی جرائم کی تحقیقات کرتا ہے۔
پولیس افسران برمنگھم سٹی کونسل کی ٹریڈنگ اسٹینڈرڈز ٹیم کے ساتھ بھی مل کر کام کررہے ہیں۔
تحقیقات ابھی جاری ہیں اور گرفتار کیے گئے دونوں افراد کے خلاف الزامات ثابت نہیں ہوئے۔
