تکبیر نیوز (چیٹم): برطانیہ کے علاقے چیٹم، کینٹ میں محض 10 پاؤنڈ کے موبائل فون سے متعلق تنازع کے بعد اپنے گھر کے ساتھی کو چاقو مار کر قتل کرنے والے 51 سالہ مارک جیسی (Mark Jesse) کو عمر قید کی سزا سنادی گئی ہے، جس میں اسے کم از کم 20 سال جیل میں گزارنا ہوں گے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ واقعہ یکم نومبر 2025 کو اس گھر میں پیش آیا جہاں مارک جیسی اور مقتول چارلی بیلشم (Charlie Belsham) رہتے تھے۔
تنازع ایک موبائل فون کی فروخت اور اس سے متعلق 10 پاؤنڈ کی رقم پر شروع ہوا تھا۔
مقدمے کے مطابق چارلی بیلشم اور گھر میں موجود ایشلے رابنسن (Ashley Robinson) کے درمیان موبائل فون کے معاملے پر جھگڑا ہوا، جس پر مارک جیسی بھی غصے میں آگیا۔
بعد ازاں جیسی، بیلشم کے کمرے کی جانب گیا اور کچھ دیر بعد باہر نکلا۔ رپورٹ کے مطابق اس نے کہا کہ اس نے بیلشم کو پسلیوں کے قریب چاقو مار دیا ہے۔
حملے میں چارلی بیلشم کے سینے پر چاقو کا ایک مہلک زخم آیا، جس کے نتیجے میں ان کی موت ہوگئی۔
واردات کے بعد جیسی اور رابنسن گھر سے فرار ہوگئے اور ایک گاڑی میں موقع سے نکل گئے۔ دونوں نے تقریباً دو میل دور گاڑی چھوڑ دی، تاہم پولیس نے انہیں اگلے 48 گھنٹوں کے دوران گرفتار کرلیا۔
میڈسٹون کراؤن کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے بعد 51 سالہ مارک جیسی کو قتل کا مجرم قرار دیا گیا اور اسے عمر قید، کم از کم 20 سال کی سزا سنائی گئی۔
ایشلے رابنسن، جو چیٹم کے میڈو بینک روڈ کا رہائشی ہے، کو مجرم کی مدد کرنے اور خطرناک ڈرائیونگ کے جرائم میں سزا دی گئی، جبکہ اس نے چوری شدہ سامان رکھنے کا جرم بھی قبول کیا تھا۔
رابنسن کو مجموعی طور پر چھ سال قید کی سزا سنائی گئی اور آٹھ سال کیلئے ڈرائیونگ سے نااہل قرار دیا گیا۔
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ بیلشم کے قتل سے قبل ایک علیحدہ واقعے میں جیسی اور رابنسن نے جان کو خطرے میں ڈالنے کی لاپروائی کے ساتھ آتش زنی کا جرم بھی قبول کیا تھا۔
یہ واقعہ می ویڈ ایونیو (Mayweed Avenue) کے قریب پیش آیا تھا، جہاں آگ سے ایک قریبی مکان کو نقصان پہنچا، تاہم کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔
سزا کے بعد کینٹ پولیس کے ڈیٹیکٹو چیف انسپکٹر مارٹن ڈیوس نے کہا کہ ایک معمولی جھگڑے کے نتیجے میں ایک شخص کی زندگی المناک طور پر ختم ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ جیسی کا چاقو لے کر مقتول کے کمرے میں جانے کا فیصلہ بلاجواز تھا، جبکہ واردات کے بعد فرار ہونے اور مسلسل اپنے عمل سے انکار کرنے سے اس کے رویے کی سنگینی ظاہر ہوئی۔
پولیس کے مطابق عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا اس سنگین جرم کی نوعیت کی عکاسی کرتی ہے۔
