تکبیر نیوز (کوونٹری): ویتنامی تارکین وطن سے فی کس 20 ہزار ڈالر لے کر انہیں غیر قانونی طور پر برطانیہ پہنچانے اور بعد ازاں قرض کی ادائیگی کیلئے کام پر لگانے والے منظم اسمگلنگ نیٹ ورک کے پانچ ارکان کو مجموعی طور پر تقریباً 40 سال قید کی سزا سنادی گئی ہے۔
نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) کے مطابق گینگ کے ارکان اپنے پیغامات میں تارکین وطن کیلئے بے رحمانہ انداز میں ’مرغیاں‘ (Chickens) کا خفیہ لفظ استعمال کرتے تھے۔ برطانیہ پہنچنے والے بعض تارکین وطن کے پاسپورٹ اپنے قبضے میں رکھ کر انہیں نیل سیلون سمیت مختلف کاروباروں میں کام کرنے پر مجبور کیا جاتا تاکہ وہ اسمگلنگ کیلئے لیا گیا قرض ادا کرسکیں۔
تحقیقات میں سامنے آیا کہ گروہ نے صرف 15 ماہ کے دوران 16 لاکھ 50 ہزار پاؤنڈ سے زائد رقم 740 لین دین کے ذریعے ویتنام منتقل کی۔
این سی اے کی تحقیقات میں کوونٹری کے 31 سالہ جڑواں بھائی وِن وان نگوین اور کوانگ وان نگوین، رودرہم کے 23 سالہ وان ہوئی نگوین جبکہ برطانیہ میں مستقل پتے کے بغیر 34 سالہ لیا چیئن ٹرونگ اور 28 سالہ سی ٹرائی ہو کی نشاندہی ہوئی۔
حکام کے مطابق اس نیٹ ورک کو بنیادی طور پر جڑواں بھائی وِن اور کوانگ چلا رہے تھے۔ وِن سوشل میڈیا کے ذریعے ویتنام سے یورپ اور پھر برطانیہ تک لوگوں کو غیر قانونی طور پر پہنچانے کی خدمات کی تشہیر کرتا تھا۔
تارکین وطن کو چھوٹی کشتیوں اور لاریوں کے ذریعے برطانیہ پہنچایا جاتا، جبکہ فرانس میں ان کے پاسپورٹ گروہ کے ارکان اپنے قبضے میں لے لیتے اور بعد میں یہ دستاویزات برطانیہ میں موجود ساتھیوں کو بھیج دی جاتیں۔
اس منظم جرائم پیشہ گروہ نے پاسپورٹس کو تارکین وطن پر قرض کی ادائیگی کیلئے دباؤ برقرار رکھنے کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیا۔ برطانیہ میں وصول کی جانے والی رقم پوسٹ آفس اور مختلف منی ٹرانسفر کمپنیوں کے ذریعے ویتنام میں گروہ کے زیر کنٹرول اکاؤنٹس تک پہنچائی جاتی تھی۔
برمنگھم میں گرفتاری سے اہم پیش رفت
کیس میں اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب کوانگ کو 11 ستمبر کو برمنگھم سٹی سینٹر میں ویسٹ مڈلینڈز پولیس نے گرفتار کیا۔
پولیس کے مطابق افسران نے اسے ایک کھڑی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ سے نکلنے کے بعد چابیاں ایک ٹیکسی کے نیچے پھینکتے دیکھا۔
گاڑی کی تلاشی کے دوران 16 ہزار 700 پاؤنڈ سے زائد نقد رقم اور 220 ویتنامی پاسپورٹ برآمد ہوئے۔ پاسپورٹس کے ساتھ ہاتھ سے لکھی تحریریں اور سابقہ منی ٹرانسفرز کی رسیدیں بھی موجود تھیں۔
ان رسیدوں کے ذریعے تفتیش کاروں کو کوونٹری، لوٹن، وگن، لیورپول، لیڈز، لیمنگٹن سپا اور رگبی سمیت متعدد شہروں سے کی جانے والی رقوم کی منتقلی کا سراغ ملا۔
مزید تحقیقات میں ان میں سے بیشتر لین دین کو گینگ کے ارکان سے جوڑا گیا۔
این سی اے کے مطابق کوانگ کے موبائل فون سے بھی لوگوں کی اسمگلنگ سے متعلق متعدد پیغامات ملے۔ بعض گفتگو میں تارکین وطن کیلئے ’Chickens‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی اور انہیں منتقل کرنے کی قیمتوں پر بات چیت کی گئی تھی۔
تحقیقات میں ایسے پیغامات بھی سامنے آئے جن میں نیل سیلونز کے پتے، ویتنامی شہریوں کے نام اور تاریخ پیدائش موجود تھیں۔ حکام کے مطابق اس سے ظاہر ہوا کہ غیر قانونی طور پر برطانیہ پہنچنے والے بعض افراد کو قرض اتارنے کیلئے مختلف کام کی جگہوں پر بھیجا جاتا تھا۔
این سی اے نے بعد میں وِن، ہو اور ٹرونگ کو کوونٹری سے گرفتار کیا، جبکہ مزید کارروائی کے دوران ہوئی کو بھی حراست میں لیا گیا۔
وِن کے فون سے تارکین وطن کو ہنگری اور فرانس کے راستے منتقل کرنے، پروازوں، پاسپورٹس، محفوظ ٹھکانوں اور لائف جیکٹس سے متعلق گفتگو بھی سامنے آئی۔
تحقیقات کے مطابق ایک گفتگو میں ویتنام سے برطانیہ پہنچانے کیلئے فی شخص 20 ہزار ڈالر قیمت کا ذکر موجود تھا۔
این سی اے نے یہ بھی بتایا کہ وِن کے فون سے موسم، ہوا اور سمندری لہروں کی معلومات فراہم کرنے والی ویب سائٹ کے متعدد استعمال کا ریکارڈ ملا۔ 61 دنوں کے دوران اسے 99 مرتبہ دیکھا گیا تھا۔
منی ٹرانسفر ریکارڈز کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ جولائی 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان گروہ کے ارکان نے مجموعی طور پر 740 ٹرانزیکشنز کے ذریعے 1.65 ملین پاؤنڈ سے زائد رقم ویتنام منتقل کی۔
پانچ ملزمان کو سزائیں
وِن کو 25 اگست کو لیورپول کراؤن کورٹ میں دو ہفتے کے مقدمے کے بعد جیوری نے مجرم قرار دیا تھا۔ کوانگ اور ٹرونگ پہلے ہی اعتراف جرم کرچکے تھے، جبکہ ہو اور ہوئی نے مقدمے کی کارروائی شروع ہونے کے بعد اپنے بیانات تبدیل کرتے ہوئے جرم قبول کرلیا۔
منگل 15 ستمبر کو لیورپول کراؤن کورٹ نے:
- وِن وان نگوین کو 12 سال 6 ماہ قید
- کوانگ وان نگوین کو 9 سال 9 ماہ قید
- وان ہوئی نگوین کو 7 سال 2 ماہ قید
- لیا چیئن ٹرونگ کو 6 سال قید
- سی ٹرائی ہو کو 4 سال قید
کی سزا سنائی۔
این سی اے برانچ کمانڈر سارا جین مور نے کہا کہ گروہ نے منافع کیلئے تارکین وطن کو منتقل کرنے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا اور ان کیلئے استعمال کی جانے والی زبان بھی ان کے رویے کی سنگینی ظاہر کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں پاسپورٹس کی برآمدگی سے اس منظم نیٹ ورک کے وسیع پیمانے پر کام کرنے کا اندازہ ہوتا ہے، جبکہ برطانیہ پہنچنے کے بعد بھی بہت سے تارکین وطن قرض کے بوجھ تلے کام کرنے پر مجبور رہے۔
این سی اے کے مطابق منظم امیگریشن جرائم کے خلاف کارروائی اس کی اہم ترجیحات میں شامل ہے اور اس وقت ایجنسی لوگوں کی اسمگلنگ میں ملوث افراد اور نیٹ ورکس کے خلاف 100 سے زائد تحقیقات کررہی ہے۔
