تکبیر نیوز (برمنگھم): برمنگھم کے سابق روڈز چیف مجید محمود نے خطرناک ڈرائیونگ کے بڑھتے رجحان کے بعد نائٹرس آکسائیڈ، جسے عام طور پر ہنسنے والی گیس کہا جاتا ہے، کے استعمال کے خلاف کریک ڈاؤن کا مطالبہ کیا ہے۔
مجید محمود، جو 2024 میں برمنگھم کے ٹرانسپورٹ چیف کی حیثیت سے شہر میں روڈ سیفٹی ایمرجنسی کا اعلان کر چکے ہیں، نے نوجوان ڈرائیوروں میں نائٹرس آکسائیڈ کے استعمال کو بھی تشویش کا باعث قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر خطرناک ڈرائیونگ کی ویڈیوز بنانا اور انہیں شیئر کرنا بھی ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے۔
مجید محمود نے 2023 کے اس واقعے کا حوالہ بھی دیا جس میں 19 سالہ تھامس جانسن نے نائٹرس آکسائیڈ استعمال کرنے کے بعد تقریباً 100 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلاتے ہوئے اپنے تین دوستوں کی جان لے لی تھی۔
انہوں نے کہا کہ خطرناک ڈرائیونگ کے رجحان کو فروغ دینے والے وسیع عوامل پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
سوشل میڈیا پر خطرناک ڈرائیونگ
مجید محمود کے مطالبات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سوشل میڈیا پر خطرناک ڈرائیونگ کی ویڈیوز کے حوالے سے بھی تشویش بڑھ رہی ہے۔
بیٹر اسٹریٹس فار برمنگھم کے مطابق سوشل میڈیا خطرناک ڈرائیونگ کو معمول کا عمل ظاہر کرنے اور اس کی سنگینی کم کرنے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
گروپ نے برمنگھم کے علاقے سمال ہیتھ میں ٹک ٹاک کے ذریعے مبینہ غیر قانونی اسٹریٹ ریسنگ اور 2022 میں اولڈبری میں اسنیپ چیٹ کے ذریعے منعقد ہونے والی کار میٹنگ کا بھی حوالہ دیا۔
سڑکوں پر نگرانی کا مطالبہ
اسٹوربریج کی رکن پارلیمنٹ کیٹ ایکلز نے بھی تیز رفتاری کو اپنے علاقے میں ایک دیرینہ مسئلہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق گرمیوں کے دوران بعض ڈرائیور رنگ روڈز کو ریس ٹریک کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
متعلقہ حلقوں کی جانب سے حکومت، پولیس اور سوشل میڈیا کمپنیوں کے درمیان مربوط کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ خطرناک ڈرائیونگ اور اس کی تشہیر دونوں کا تدارک کیا جا سکے۔
مجید محمود کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر ہونے والے خطرناک واقعات سے نمٹنے کے لیے صرف پولیس کارروائی کافی نہیں بلکہ ان عوامل پر بھی توجہ ضروری ہے جو نوجوانوں میں خطرناک ڈرائیونگ کے رجحان کو بڑھا رہے ہیں۔
