برمنگھم کی خاتون کو چیریٹی شاپ سے 9 پاؤنڈ میں قیمتی چاندی کا لاکٹ مل گیا
تکبیر نیوز، برمنگھم: برمنگھم کی ایک لکھاری نے شہر کی چیریٹی شاپس میں سستے داموں قیمتی اشیا تلاش کرنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اس بار بورن وِل کی ایک چیریٹی شاپ سے ایسا لاکٹ خرید لیا جو اس کی ادا کردہ قیمت سے تقریباً 100 پاؤنڈ زیادہ مالیت کا نکلا۔
خاتون نے بورن وِل میں برمنگھم ہاسپس کی چیریٹی شاپ سے یہ لاکٹ صرف 9 پاؤنڈ میں خریدا تھا۔ ابتدا میں یہ عام زیورات کی طرح دکھائی دیتا تھا، تاہم قریب سے جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ یہ 925 اسٹرلنگ چاندی کا بنا ہوا ہے۔
لاکٹ پر خوبصورت پھولوں کی نقش و نگاری بھی موجود ہے، جبکہ اس کے پچھلے حصے پر معروف انگریزی شاعر ولیم شیکسپیئر کے سونیٹ نمبر 116 کا ایک اقتباس کندہ ہے۔
خاتون نے لاکٹ کی مزید تحقیق کے لیے آن لائن معلومات حاصل کیں تو اسے معلوم ہوا کہ اسی نوعیت کا لاکٹ تقریباً 100 پاؤنڈ زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہا ہے۔
انہوں نے اس دریافت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے شیکسپیئر کے الفاظ کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ شاید شاعر کے انداز میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ’’میری خوش قسمتی سمندر کی طرح بے حد ہے۔‘‘
چیریٹی شاپس میں قیمتی اشیا کی تلاش
یہ خاتون اس سے قبل بھی برمنگھم کے علاقے ہاربرن میں ایک چیریٹی شاپ سے کم قیمت پر ایک قیمتی ہینڈ بیگ خرید چکی ہیں۔
چیریٹی شاپس میں قیمتی اشیا تلاش کرنے کا ان کا شوق اس وقت مزید بڑھا جب انہیں ایک ایسی خبر کے بارے میں معلوم ہوا جس میں دی ہوبٹ کے پہلے ایڈیشن کی کتاب 38 ہزار 400 پاؤنڈ میں فروخت ہوئی تھی۔
اس کے بعد انہوں نے چیریٹی شاپس میں غیر معمولی اور کم قیمت اشیا تلاش کرنے کو باقاعدہ شوق بنا لیا۔
خاتون کا کہنا ہے کہ وہ برمنگھم ہاسپس کی بھی حمایت کرنا چاہتی ہیں اور وہاں سے خریداری کے ساتھ ساتھ اشیا عطیہ کرنے کا ارادہ بھی رکھتی ہیں۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ انہیں لگتا تھا کہ آن لائن قیمتیں باآسانی معلوم ہونے کے دور میں چیریٹی شاپ سے کوئی حقیقی قیمتی چیز ملنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہوگا، لیکن ان کے حالیہ تجربات نے اس سوچ کو غلط ثابت کر دیا۔
برمنگھم ہاسپس کی چیریٹی شاپس
برمنگھم ہاسپس شہر میں متعدد چیریٹی شاپس چلاتا ہے، جن میں بورن وِل کی وہ دکان بھی شامل ہے جہاں سے یہ لاکٹ ملا۔
ہاسپس کی جانب سے شہر کے مرکزی علاقے بل رنگ میں ایک نئی چیریٹی شاپ کھولنے کی بھی تیاری کی جا رہی ہے، جس کے بعد خریداروں اور عطیہ دینے والوں کے لیے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔
اس دریافت نے ایک بار پھر یہ ظاہر کیا ہے کہ چیریٹی شاپس میں عطیہ کی جانے والی اشیا میں بعض اوقات ایسی قیمتی چیزیں بھی موجود ہوتی ہیں جن کی اصل قدر خریداروں کو فوری طور پر معلوم نہیں ہوتی۔
خاتون کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی چیریٹی شاپس کا رخ کرتی رہیں گی اور برمنگھم ہاسپس کی مدد جاری رکھیں گی۔
