تکبیر نیوز (پافوس، قبرص): قبرص میں چھٹیاں منانے پہنچنے والے ایک برطانوی خاندان کو پہلے ہی روز ناقابلِ تصور سانحے کا سامنا کرنا پڑا، جہاں تین سالہ بچہ پافوس کے علاقے کلوراکا میں واقع ایک ہوٹل کی چوتھی منزل کے کوریڈور کی کھڑکی سے گر کر جاں بحق ہوگیا۔
قبرصی پولیس نے واقعے کے بعد بچے کے 37 سالہ والد کو گرفتار کیا، جبکہ پافوس ڈسٹرکٹ کورٹ نے جاری تحقیقات کے لیے اسے آٹھ روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔
رات کے کھانے کے لیے جاتے ہوئے پیش آیا سانحہ
مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق برطانوی خاندان واقعے کے روز ہی چھٹیاں گزارنے قبرص پہنچا تھا۔ شام کے وقت خاندان کے افراد رات کے کھانے کے لیے نیچے جانے کی تیاری کر رہے تھے۔
ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ والد اپنے تین سالہ بیٹے کے ساتھ ہوٹل کی چوتھی منزل کے کوریڈور میں موجود تھا۔ رپورٹس کے مطابق باپ بیٹا کھیل رہے تھے اور اسی دوران بچہ قریب موجود کھڑکی سے نیچے جا گرا۔
بعض مقامی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ والد بچے کے ساتھ ’’ایروپلین‘‘ انداز میں کھیل رہا تھا، تاہم واقعے کے درست حالات اب پولیس تحقیقات کا حصہ ہیں اور حتمی ذمہ داری کا تعین عدالتی عمل کے ذریعے ہوگا۔
تقریباً 33 فٹ بلندی سے نیچے گرا بچہ
بچہ چوتھی منزل سے تقریباً 33 فٹ نیچے گرا۔ ہنگامی طبی عملے کو شام تقریباً 6 بج کر 40 منٹ پر موقع پر طلب کیا گیا۔
امدادی کارکنوں نے بچے کو بے ہوشی کی حالت میں پایا اور اسے فوری طور پر پافوس جنرل ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق بعد میں طبی معائنے میں بچے کو شدید سر اور اندرونی چوٹیں لگنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
والد گرفتار، عدالت میں جذباتی مناظر
سانحے کے چند گھنٹوں بعد پولیس نے 37 سالہ والد کو حراست میں لے لیا۔
پیر کی صبح اسے پافوس ڈسٹرکٹ کورٹ میں پیش کیا گیا، جہاں پولیس نے تحقیقات مکمل کرنے کے لیے آٹھ روزہ ریمانڈ کی درخواست کی۔
مقامی میڈیا کے مطابق عدالتی کارروائی کے دوران والد شدید جذباتی کیفیت میں مبتلا ہوگیا اور رونے لگا، جس کے باعث سماعت کو مختصر وقت کے لیے روکنا پڑا۔
عدالت نے پولیس کی درخواست منظور کرتے ہوئے ملزم کو آٹھ روزہ ریمانڈ پر دے دیا۔
کن الزامات کی تحقیقات ہو رہی ہیں؟
پافوس پولیس کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر آف آپریشنز میخالیس نیکولاؤ کے مطابق پولیس والد کے خلاف لاپرواہی، غفلت یا خطرناک عمل کے نتیجے میں موت کے پہلو سے تحقیقات کر رہی ہے۔
اس کے علاوہ خاندان کے سربراہ کی حیثیت سے ذمہ داری پوری نہ کرنے اور زیرِ نگہداشت شخص کی دیکھ بھال میں مبینہ غفلت کے معاملات بھی زیرِ تفتیش ہیں۔
یہ بات اہم ہے کہ والد کے خلاف الزامات اور پولیس تحقیقات جاری ہیں۔ کسی بھی فوجداری ذمہ داری یا جرم کا حتمی فیصلہ عدالت کرے گی۔
بچے کے دادا بھی قریب موجود تھے
رپورٹس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب بچہ، اس کا والد اور دادا ہوٹل کے کمرے سے نکل کر لفٹ کی جانب جا رہے تھے۔
خاندان رات کے کھانے کے لیے نیچے جانے والا تھا کہ چند لمحوں میں چھٹیاں ایک بڑے سانحے میں تبدیل ہوگئیں۔
بتایا گیا ہے کہ خاندان کے ساتھ پانچ سالہ بچی بھی چھٹیوں پر موجود ہے۔
پولیس سی سی ٹی وی اور گواہوں کی مدد سے تحقیقات کر رہی ہے
قبرصی حکام واقعے کے درست حالات جاننے کے لیے ہوٹل کے سی سی ٹی وی، جائے وقوعہ اور گواہوں کے بیانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
تحقیقات کا ایک اہم مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ بچہ کھڑکی تک کیسے پہنچا اور حادثے سے پہلے کے چند لمحوں میں کیا ہوا۔
پولیس کی تفتیش مکمل ہونے کے بعد جمع کیے گئے شواہد کی بنیاد پر آئندہ قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
برطانوی دفتر خارجہ خاندان کی مدد کر رہا ہے
برطانیہ کے فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس نے تصدیق کی ہے کہ قبرص میں جاں بحق ہونے والے برطانوی بچے کے خاندان کو قونصلر معاونت فراہم کی جا رہی ہے اور برطانوی حکام مقامی اداروں سے رابطے میں ہیں۔
بیرون ملک کسی برطانوی شہری کی موت کی صورت میں برطانوی قونصلر حکام خاندان کو مقامی طریقہ کار اور متعلقہ حکام سے رابطے کے حوالے سے مدد فراہم کر سکتے ہیں۔
تحقیقات کے بعد اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟
والد اس وقت عدالتی حکم کے تحت پولیس ریمانڈ میں ہے۔ تفتیش کار واقعے سے متعلق شواہد اور بیانات جمع کر رہے ہیں۔
آٹھ روزہ ریمانڈ کے دوران پولیس تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ معاملے میں مزید قانونی کارروائی کس نوعیت کی ہوگی۔
تین سالہ بچے کی موت نے ایک برطانوی خاندان کی چھٹیوں کو ناقابلِ بیان صدمے میں بدل دیا ہے۔ تاہم قانونی طور پر واقعے کے تمام حالات اور کسی ممکنہ فوجداری ذمہ داری کا تعین جاری تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ہوگا۔
