تکبیر نیوز (برمنگھم): برطانیہ کے شہر برمنگھم میں آتشزدگی کے ایک المناک واقعے میں جان گنوانے والے تین بچوں کے والد ڈینیئل گارڈنر کی والدہ نے عدالت میں اپنے بیٹے کے خلاف لگائے گئے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے بچوں سے بے حد محبت کرتا تھا اور ان کی خاطر ہر قربانی دینے کے لیے تیار رہتا تھا۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب 47 سالہ اسٹیفن ڈیل کو گزشتہ برس ہائیٹرز ہیتھ کے علاقے سیکسنز وے میں واقع فلیٹ کو آگ لگانے کے مقدمے میں قتلِ خطا (Manslaughter) اور انسانی جان کو خطرے میں ڈالنے والی آتشزدگی کے جرم میں مجرم قرار دیا جا چکا ہے۔
عدالت میں پیش کیے گئے شواہد کے مطابق گزشتہ سال 19 ستمبر کی علی الصبح اسٹیفن ڈیل نے ڈینیئل گارڈنر کے فلیٹ کو آگ لگا دی، جس کے باعث 36 سالہ ڈینیئل اندر ہی پھنس گیا اور جانبر نہ ہو سکا۔
والدہ نے بیٹے کا دفاع کیا
برمنگھم کراؤن کورٹ میں پڑھ کر سنائے گئے اپنے متاثرہ خاندان کے بیان میں ڈینیئل کی والدہ جولی گارڈنر نے کہا کہ مقدمے کی سماعت کے دوران یہ تاثر دینا انتہائی تکلیف دہ تھا کہ ان کا بیٹا اپنے بچوں کے ساتھ بدسلوکی کرتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ دعویٰ حقیقت کے منافی ہے اور خاندان سمیت تمام قریبی افراد جانتے ہیں کہ ڈینیئل اپنے بچوں سے بے پناہ محبت کرتا تھا۔
جولی گارڈنر کے مطابق ایسے بے بنیاد الزامات نے ان کے خاندان کے دکھ میں مزید اضافہ کیا۔
استغاثہ نے کیا مؤقف اختیار کیا؟
استغاثہ کے مطابق اسٹیفن ڈیل، جو ڈینیئل گارڈنر کی سابقہ ساتھی کا موجودہ شریکِ حیات تھا، مقتول کو اپنے لیے ایک بڑا مسئلہ سمجھتا تھا اور اسی دشمنی کے باعث اس نے انتقامی کارروائی کی۔
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ اسٹیفن ڈیل ماضی میں بھی ایک سنگین پرتشدد جرم میں سزا یافتہ رہ چکا ہے اور 2011 میں ایک شخص کو آٹھ مرتبہ چاقو مارنے کے جرم میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔
دفاع کا مؤقف
ملزم کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ اسٹیفن ڈیل کا مقصد ڈینیئل گارڈنر کو قتل کرنا نہیں بلکہ صرف خوفزدہ کرنا تھا۔ دفاع کے مطابق ملزم نے دروازے کے باہر پٹرول کو آگ لگائی تھی اور اسے معلوم نہیں تھا کہ فلیٹ سے باہر نکلنے کا صرف ایک ہی راستہ موجود ہے۔
اسی مقدمے میں 19 سالہ ٹائلر فیتھیئن پر بھی فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ عدالت نے اسے قتلِ خطا کے الزام سے بری کر دیا، تاہم ایک ہمسائے کی جان کو خطرے میں ڈالنے والی آتشزدگی کے جرم میں قصوروار قرار دیا۔
سزا کا اعلان
برمنگھم کراؤن کورٹ کی جج ہیڈی کیوبک نے مقدمے کی سزا سنانے کی کارروائی 3 جولائی تک ملتوی کر دی تھی، جہاں اسٹیفن ڈیل کو سزا سنائے جانے کی توقع ہے۔
برطانوی قانون کے مطابق عدالت کی جانب سے جرم ثابت ہونے تک ہر ملزم بے گناہ تصور کیا جاتا ہے، تاہم اس مقدمے میں اسٹیفن ڈیل کو عدالت مجرم قرار دے چکی ہے اور اب صرف سزا کا تعین باقی ہے۔
