تکبیر نیوز (سفولک): برطانیہ میں ہزاروں مسلمانوں کے ایک بڑے مذہبی اجتماع کو مبینہ انتہائی دائیں بازو دہشت گردی کے سنگین خطرے کے بعد انسداد دہشت گردی پولیس نے ملک گیر کارروائی کرتے ہوئے 12 افراد کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار افراد میں 11 مرد اور ایک خاتون شامل ہیں جبکہ تین مردوں کو قتل کی سازش کے شبہے میں حراست میں لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق تحقیقات کا تعلق سفولک کے شرب لینڈ ہال میں منعقد ہونے والے یوکے اجتماع سے ہے۔ یہ مذہبی اجتماع 9 سے 12 جولائی تک جاری رہا اور تقریباً 15 ہزار افراد نے اس میں شرکت کی۔
انسداد دہشت گردی پولیس کو اسلامی اجتماع کے خلاف ممکنہ سنگین خطرے کی اطلاع ملنے کے بعد صورتحال تیزی سے تبدیل ہوئی۔ منتظمین کو احتیاطی اقدام کے طور پر اجتماع مقررہ وقت سے کچھ پہلے ختم کرنے کا مشورہ دیا گیا، جس کے بعد ہزاروں شرکا کو محفوظ اور منظم انداز میں مقام سے روانہ کیا گیا۔ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ تمام شرکا بحفاظت چلے گئے۔
اسلامی اجتماع مبینہ طور پر نشانے پر
میٹروپولیٹن پولیس کی جانب سے جاری سرکاری معلومات کے مطابق انسداد دہشت گردی پولیس لندن اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور کیس کو انتہائی دائیں بازو دہشت گردی سے متعلق قرار دیا گیا ہے۔
پولیس نے ابھی مبینہ خطرے کی مکمل نوعیت، ممکنہ ہتھیار یا کسی ممکنہ حملے کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلات عوام کے سامنے جاری نہیں کیں۔ اسی طرح گرفتار افراد کے خلاف تاحال حتمی عدالتی الزامات عائد کیے جانے کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
تاہم تین افراد کی قتل کی سازش کے شبہے میں گرفتاری نے تحقیقات کی سنگینی کو نمایاں کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق ایک 82 سالہ، 55 سالہ اور 60 سالہ شخص کو قتل کی سازش کے شبہے میں گرفتار کیا گیا۔ 82 سالہ شخص کو بعد میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا جبکہ دیگر گرفتار افراد سے تحقیقات جاری ہیں۔
ملک کے مختلف علاقوں میں بیک وقت گرفتاریاں
انسداد دہشت گردی پولیس نے جنوب مشرقی انگلینڈ، مشرقی علاقوں اور گریٹر مانچسٹر سمیت مختلف مقامات پر کارروائیاں کیں۔
گرفتار افراد میں ایپس وچ کا 27 سالہ شخص، گریٹر مانچسٹر کا 35 سالہ شخص، ایسیکس کے دو 42 سالہ مرد اور سرے سے تعلق رکھنے والے 27، 29، 55، 60 اور 82 سال کی عمر کے پانچ افراد شامل ہیں۔
اس کے علاوہ جنوب مشرقی لندن سے 33 سالہ شخص جبکہ مشرقی لندن سے 31 سالہ مرد اور 48 سالہ خاتون کو گرفتار کیا گیا۔
خاتون کو مبینہ طور پر ایک ملزم کی مدد کرنے کے شبہے میں حراست میں لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق آٹھ مردوں کو دہشت گردی ایکٹ 2000 کی دفعہ 41 کے تحت گرفتار کیا گیا اور ان سے پولیس حراست میں تفتیش جاری ہے۔
15 ہزار افراد کی محفوظ روانگی کے لیے بڑا آپریشن
سفولک پولیس کے مطابق اتوار کی صبح صورتحال کو ایک بڑے ہنگامی واقعے کے طور پر قرار دیا گیا اور مختلف اداروں پر مشتمل مشترکہ کارروائی شروع کی گئی۔
اس کارروائی کا بنیادی مقصد اجتماع میں موجود تقریباً 15 ہزار افراد کو محفوظ اور منظم طریقے سے مقام سے روانہ کرنا تھا۔
سفولک پولیس کی اسسٹنٹ چیف کانسٹیبل ایلس اسکاٹ نے کہا کہ یہ ایک پیچیدہ اور تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال تھی اور تمام متعلقہ اداروں کی اولین ترجیح اجتماع میں شریک ہر شخص کی حفاظت تھی۔
بعد ازاں بڑے ہنگامی واقعے کی حیثیت ختم کر دی گئی، تاہم پولیس نے شرب لینڈ ہال اور اطراف کے علاقوں میں اضافی افسران کی موجودگی برقرار رکھنے کا اعلان کیا تاکہ مقامی آبادی اور مسلم کمیونٹی کو اعتماد فراہم کیا جا سکے۔
انسداد دہشت گردی پولیس کا برطانوی مسلمانوں کے نام پیغام
انسداد دہشت گردی پولیس لندن کی سربراہ کمانڈر ہیلن فلینیگن نے کہا کہ اسلامی تقریب کو ممکنہ سنگین خطرے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے انتہائی تیزی سے کارروائی کی اور ملک کے مختلف علاقوں میں متعدد گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ خبر بالخصوص مسلم کمیونٹی کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ پولیس کا ماننا ہے کہ ممکنہ ہدف ایک اسلامی اجتماع تھا۔
کمانڈر ہیلن فلینیگن نے کہا کہ پولیس کسی بھی ممکنہ خطرے کے خلاف کارروائی سے گریز نہیں کرے گی، چاہے ہدف کوئی بھی فرد یا کمیونٹی ہو۔
انہوں نے عوام سے بھی چوکس رہنے اور کسی مشکوک سرگرمی یا غیر معمولی صورتحال کی فوری اطلاع دینے کی اپیل کی۔ پولیس کے مطابق برطانیہ میں قومی دہشت گردی خطرے کی سطح اس وقت ’’شدید‘‘ ہے۔
شبانہ محمود: پولیس کارروائی نے ممکنہ طور پر جانیں بچائیں
برطانوی وزیر داخلہ Shabana Mahmood نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی فوری کارروائی کو سراہا ہے۔
شبانہ محمود نے کہا کہ یوکے اجتماع کے خلاف ایک قابل اعتبار خطرے سے نمٹنے کے لیے پولیس کے ردعمل نے بلاشبہ جانیں بچائی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ خبر برطانوی مسلمانوں کے لیے انتہائی تشویشناک ہے اور ملک کو نفرت کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا۔
وزیر داخلہ کے مطابق برطانیہ کو ایک ایسے ملک کے مشترکہ تصور کے گرد متحد رہنا چاہیے جو تمام کمیونٹیز کے لیے کھلا، فراخ دل اور برداشت پر مبنی ہو۔
یہ واقعہ برطانوی مسلمانوں کے لیے کیوں اہم ہے؟
یوکے اجتماع جیسے بڑے مذہبی پروگرام میں ہزاروں مسلمان خاندان اور مختلف علاقوں سے آنے والے افراد شریک ہوتے ہیں۔ ایسے کسی اجتماع کو ممکنہ دہشت گردی کے خطرے کا نشانہ بنائے جانے کی تحقیقات صرف ایک مقامی پولیس کیس نہیں بلکہ برطانیہ میں مذہبی اجتماعات اور مسلم کمیونٹی کی حفاظت سے متعلق ایک سنجیدہ قومی معاملہ ہے۔
موجودہ مرحلے پر پولیس نے کسی مکمل حملہ منصوبے کی تفصیلات جاری نہیں کیں اور گرفتار افراد کے خلاف الزامات کو عدالت میں ثابت ہونا باقی ہے۔ اسی لیے گرفتار افراد کو قانونی طور پر مجرم قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
البتہ اجتماع کو قبل از وقت ختم کرنا، بڑے ہنگامی واقعے کا اعلان، 15 ہزار افراد کی منظم روانگی اور ملک کے مختلف علاقوں میں انسداد دہشت گردی کارروائیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ حکام نے موصول ہونے والی معلومات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا۔
تحقیقات اب کہاں تک جائیں گی؟
انسداد دہشت گردی پولیس ملک بھر میں گرفتاریوں سے منسلک متعدد مقامات کی تلاشی لے رہی ہے۔ تفتیش کار ممکنہ رابطوں، دستیاب شواہد اور مبینہ خطرے کی نوعیت کا جائزہ لے رہے ہیں۔
آٹھ گرفتار افراد سے دہشت گردی قانون کے تحت تفتیش جاری ہے جبکہ قتل کی سازش کے شبہے میں گرفتار افراد سے متعلق تحقیقات بھی آگے بڑھ رہی ہیں۔
آنے والے دنوں میں پولیس مزید معلومات جاری کر سکتی ہے، تاہم کسی بھی فرد پر باقاعدہ فرد جرم یا عدالت میں پیشی سے متعلق فیصلہ دستیاب شواہد اور تفتیش کی پیش رفت کی بنیاد پر ہوگا۔
سفولک میں اسلامی اجتماع کے خلاف مبینہ انتہائی دائیں بازو دہشت گردی کے خطرے نے برطانوی مسلم کمیونٹی میں تشویش پیدا کی ہے، لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ فوری کارروائی، اجتماع کی محفوظ بندش اور ہزاروں شرکا کی بحفاظت روانگی کے ذریعے ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے گئے۔
