تکبیر نیوز (فلوریڈا): امریکا کی ریاست فلوریڈا میں ایک سابق پولیس افسر کے خلاف 6 سالہ بچی کی موت سے متعلق سنگین فوجداری مقدمہ عدالت میں پہنچ گیا ہے۔ تفتیشی حکام کا الزام ہے کہ 25 سالہ زیکری کروگ نے 50 میل فی گھنٹہ رفتار کی حد والی مصروف سڑک پر پولیس کی غیر نشان زدہ گاڑی 104 میل فی گھنٹہ تک چلائی اور چند لمحوں بعد ایک خاندان کی گاڑی سے خوفناک تصادم ہو گیا۔
حادثے میں 6 سالہ لیلا ساکوسکی جانبر نہ ہو سکی جبکہ اس کی والدہ سمانتھا ساکوسکی اور دو دیگر کم عمر بچے بھی زخمی ہوئے۔ سابق پولیس افسر نے گاڑی کے ذریعے قتل اور سنگین جسمانی نقصان سے متعلق لاپرواہ ڈرائیونگ کے الزامات میں صحت جرم سے انکار کیا ہے۔
حادثے سے صرف چند سیکنڈ پہلے رفتار 104 میل فی گھنٹہ
فلوریڈا ہائی وے پٹرول کی تحقیقات کے مطابق واقعہ 15 اپریل کو ایسٹ فاؤلر ایونیو پر پیش آیا۔ زیکری کروگ اس وقت ٹیمپل ٹیرس پولیس ڈیپارٹمنٹ میں افسر تھا اور محکمے کی غیر نشان زدہ فورڈ ایکسپلورر چلا رہا تھا۔
تفتیشی ریکارڈ کے مطابق کروگ نے ایک سرخ ٹریفک سگنل پر مختصر وقت کے لیے پولیس گاڑی کی ایمرجنسی لائٹس استعمال کیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد گاڑی نے انتہائی تیزی سے رفتار پکڑی اور حادثے سے کچھ دیر پہلے 104 میل فی گھنٹہ تک پہنچ گئی۔
یہ سڑک 50 میل فی گھنٹہ رفتار کی حد والے علاقے میں واقع ہے۔ پولیس گاڑی کے ڈیش کیم اور تفتیشی شواہد کو مقدمے میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ماں اپنے تین بچوں کے ساتھ گاڑی میں موجود تھی
حادثے کے وقت سمانتھا ساکوسکی ایک نسان پاتھ فائنڈر میں اپنے تین بچوں کے ساتھ سفر کر رہی تھیں۔ رپورٹس کے مطابق وہ کھانے کی ڈیلیوری کا کام کر رہی تھیں اور فاؤلر ایونیو کے قریب گاڑی موڑ رہی تھیں۔
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ کروگ نے سامنے موجود گاڑی دیکھ کر بریک لگائی، لیکن اس وقت اس کی رفتار اس قدر زیادہ تھی کہ تصادم کو روکا نہ جا سکا۔
حکام کے مطابق پولیس کی گاڑی تقریباً 74 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے نسان پاتھ فائنڈر کے مسافر والی جانب سے ٹکرائی۔
تصادم کے نتیجے میں دونوں گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا اور سمانتھا سمیت ان کے بچوں کو ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔
6 سالہ لیلا ہسپتال میں دم توڑ گئی
حادثے میں شدید زخمی ہونے والی 6 سالہ لیلا ساکوسکی کو فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال لے جایا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئی۔
خاندان کی امداد کے لیے قائم کیے گئے فنڈ ریزنگ صفحے پر دی گئی معلومات کے مطابق لیلا کی 8 سالہ بہن کو ریڑھ کی ہڈی اور پیڑو کی ہڈی میں شدید چوٹیں آئیں اور اسے طبی طور پر کوما میں رکھا گیا۔
بچوں کی والدہ سمانتھا کو پسلیوں میں فریکچر اور چہرے پر چوٹیں آئیں جبکہ کم عمر بچے کو سر پر چوٹ لگنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
بعد میں خاندان کی جانب سے جاری اپ ڈیٹ میں بتایا گیا کہ 8 سالہ بچی کی حالت بتدریج بہتر ہو رہی ہے اور وہ فزیکل اور آکوپیشنل تھراپی میں حصہ لے رہی ہے۔
کیا پولیس افسر ڈیوٹی پر دیر سے پہنچ رہا تھا؟
اس مقدمے کا ایک اہم پہلو زیکری کروگ کی تیز رفتاری کی وجہ ہے۔
استغاثہ کا مؤقف ہے کہ سابق افسر اپنی شفٹ کے لیے تاخیر کا شکار تھا۔ ٹیمپل ٹیرس پولیس کے انتظامی ریکارڈ میں بھی اس کی تاخیر اور گاڑی چلانے سے متعلق متعدد پالیسی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
ہلز بورو کاؤنٹی کی اسٹیٹ اٹارنی سوزی لوپیز نے سابق افسر کے طرز عمل پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک عام دوپہر میں ایک افسر نے اپنی ضرورت کو سڑک پر موجود دیگر افراد کی حفاظت سے زیادہ اہم سمجھا۔
استغاثہ کا کہنا ہے کہ کروگ کسی مجرم کا تعاقب نہیں کر رہا تھا اور نہ ہی کسی ہنگامی صورتحال میں مدد فراہم کرنے جا رہا تھا۔
دفاع کا دعویٰ: ایک تیز رفتار گاڑی کا تعاقب تھا
زیکری کروگ کے وکیل رالف فرنینڈز نے استغاثہ کے مؤقف سے اختلاف کیا ہے۔
دفاع کا کہنا ہے کہ کروگ نے ایک گاڑی کو تیزی سے روانہ ہوتے اور ٹریفک سگنل عبور کرتے دیکھا تھا اور ممکنہ طور پر وہ اس گاڑی کا تعاقب کر رہا تھا۔
وکیل کے مطابق مقدمے میں ایسے شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے جو یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ سابق افسر پولیس کارروائی کے دوران رفتار بڑھانے پر مجبور ہوا۔
تاہم ریاستی استغاثہ نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک کی تحقیقات میں کسی باقاعدہ پولیس تعاقب کا ثبوت سامنے نہیں آیا۔
یہی اختلاف مقدمے کے آئندہ عدالتی مراحل میں مرکزی قانونی بحث بن سکتا ہے۔
پولیس ڈیپارٹمنٹ نے افسر کو ملازمت سے نکال دیا
حادثے کے بعد ٹیمپل ٹیرس پولیس ڈیپارٹمنٹ نے اندرونی انتظامی تحقیقات بھی کیں۔
محکمے کے مطابق تحقیقات میں گاڑی کے استعمال، تاخیر، حفاظتی غفلت، پولیس پالیسی اور دیگر قواعد سے متعلق متعدد خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔
پولیس ڈیپارٹمنٹ نے زیکری کروگ کو ملازمت سے برطرف کر دیا۔
محکمے نے اپنے بیان میں کہا کہ حادثے سے متعلق سامنے آنے والے اقدامات پولیس کی تربیت، پالیسی اور افسران سے وابستہ پیشہ ورانہ توقعات کے مطابق نہیں تھے۔
فلوریڈا ہائی وے پٹرول نے اپنی تحقیقات میں کروگ کی انتہائی تیز رفتاری کو حادثے کا بنیادی سبب قرار دیا ہے۔
پولیس کی ایمرجنسی لائٹس کا استعمال بھی زیر تفتیش
اس مقدمے میں ایک اور اہم سوال پولیس گاڑی کی ایمرجنسی لائٹس کے استعمال سے متعلق ہے۔
تحقیقات کے مطابق کروگ نے سرخ ٹریفک سگنل عبور کرنے کے لیے مختصر وقت کے لیے ایمرجنسی لائٹس استعمال کی تھیں۔
محکمانہ ریکارڈ میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس وقت لائٹس استعمال کرنے کی قانونی یا آپریشنل بنیاد موجود نہیں تھی۔
تفتیش کاروں کے مطابق حادثے کے وقت پولیس گاڑی کی ایمرجنسی لائٹس اور سائرن فعال نہیں تھے۔
امریکا میں پولیس افسران کو مخصوص ہنگامی حالات میں ٹریفک قوانین سے محدود استثنا حاصل ہو سکتا ہے، لیکن اس کا انحصار متعلقہ ریاست کے قانون، محکمے کی پالیسی اور اس بات پر ہوتا ہے کہ افسر کسی حقیقی ہنگامی کارروائی میں مصروف تھا یا نہیں۔
اسی لیے یہ تعین کرنا اہم ہوگا کہ کروگ اس وقت پولیس ڈیوٹی کے کسی جائز ہنگامی مقصد کے تحت رفتار بڑھا رہا تھا یا نہیں۔
90 ہزار ڈالر بانڈ کے بعد رہائی
زیکری کروگ کو ہلز بورو کاؤنٹی جیل میں حراست میں لیا گیا تھا۔ بعد ازاں اس نے 90 ہزار ڈالر کا بانڈ جمع کرایا اور اسے مقدمے کی مزید کارروائی تک رہائی مل گئی۔
سابق افسر نے الزامات میں صحت جرم سے انکار کیا ہے، اس لیے قانونی طور پر اسے اس وقت تک مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک عدالت میں الزام ثابت نہ ہو۔
اس کی اگلی عدالتی پیشی 13 اگست کو متوقع ہے۔
آنے والے عدالتی مراحل میں ڈیش کیم فوٹیج، گاڑی کی رفتار سے متعلق ڈیٹا، پولیس کمپیوٹر لاگ، ایمرجنسی لائٹس کے استعمال اور مبینہ تعاقب کے دفاعی دعوے کا تفصیلی جائزہ اہم ہوگا۔
ایک خاندان کی زندگی بدل دینے والا حادثہ
اس مقدمے میں قانونی بحث اپنی جگہ، لیکن حادثے نے ساکوسکی خاندان کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔
ایک 6 سالہ بچی اپنی جان سے گئی جبکہ اس کی بہن کو طویل طبی بحالی کا سامنا ہے۔ خاندان کے مطابق زخمی بچی کو گھر واپسی کے بعد بھی مسلسل تھراپی اور ادویات کی ضرورت ہوگی۔
استغاثہ کا مؤقف ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکار بھی ٹریفک قوانین اور عوامی تحفظ سے متعلق جواب دہی سے بالاتر نہیں۔
دوسری طرف دفاع عدالت میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے گا کہ کروگ پولیس ذمہ داری کے تحت ایک دوسری گاڑی کا تعاقب کر رہا تھا۔
اب عدالت کو دستیاب شواہد کی بنیاد پر یہ طے کرنا ہوگا کہ 104 میل فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچنے والے سابق افسر کا عمل مجرمانہ لاپرواہی کے زمرے میں آتا ہے یا دفاع کی جانب سے پیش کیا جانے والا پولیس تعاقب کا مؤقف قانونی طور پر قابل قبول ہے۔
