تکبیر نیوز (برطانیہ): دل دہلا دینے والے واقعے میں اپنے صرف تین ماہ کے بیٹے کو شدید طاقت سے جھنجھوڑ کر جان سے مارنے والے 23 سالہ باپ کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ بریڈلی تھامس نے ننھے ایمرسن اوک تھامس کو اس قدر تشدد اور طاقت سے جھنجھوڑا کہ بچے کے دماغ کو شدید اور ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا، مگر اپنے بیٹے کی جان بچانے کی کوشش کرنے کے بجائے اس نے حقیقت چھپائی اور پولیس کے سامنے جھوٹی کہانی پیش کرتا رہا۔
ٹیس سائیڈ کراؤن کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران جیوری نے بریڈلی تھامس کو قتل کا مجرم قرار دیا۔ عدالت نے اسے عمر قید کی سزا سناتے ہوئے حکم دیا کہ وہ کم از کم 14 سال جیل میں گزارے گا۔
رات کو بچہ نہ سویا تو باپ غصے میں آگیا
عدالت کو بتایا گیا کہ واقعہ گزشتہ سال 5 اکتوبر کی علی الصبح پیش آیا۔ بریڈلی تھامس نیند کی کمی کا شکار تھا اور جب اس کا تین ماہ کا بیٹا رات کے وقت پرسکون نہ ہوا تو وہ شدید جھنجھلاہٹ کا شکار ہوگیا۔
بریڈلی اور اس کی ساتھی کے درمیان یہ طے تھا کہ وہ رات کے وقت بچے کو دودھ پلانے اور اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھالے گا کیونکہ بچے کی والدہ دن کے وقت ایمرسن کی دیکھ بھال کرتی تھیں جبکہ بریڈلی کام پر جاتا تھا۔
عدالت کے مطابق اسی رات بچے کے مسلسل نہ سونے پر بریڈلی نے غصے اور مایوسی میں اسے انتہائی طاقت سے جھنجھوڑا۔
طبی شواہد سے سامنے آیا کہ بچے کو اس قدر شدید انداز میں جھنجھوڑا گیا کہ اس کے دماغ کو سنگین اور ناقابلِ واپسی نقصان پہنچا۔
بچے کی سانس بگڑی، پھر بھی 30 منٹ تک مدد نہ بلائی
حملے کے بعد ننھے ایمرسن کو سانس لینے میں دشواری شروع ہوگئی جبکہ اس کے بازو غیر معمولی انداز میں حرکت کر رہے تھے۔
بریڈلی نے اپنی ساتھی کو جگایا، لیکن عدالت کو بتایا گیا کہ اس کے باوجود ہنگامی طبی مدد کے لیے 999 پر فون کرنے میں تقریباً 30 منٹ کی تاخیر کی گئی۔
بچے کو فوری طور پر جیمز کک یونیورسٹی ہسپتال لے جایا گیا اور حالت کی سنگینی کے باعث بعد میں نیو کاسل کے رائل وکٹوریہ انفرمری منتقل کر دیا گیا۔
ڈاکٹروں نے ایمرسن کی جان بچانے کی بھرپور کوشش کی، تاہم وہ 8 اکتوبر کی علی الصبح دم توڑ گیا۔ موت کے وقت اس کی عمر صرف تین ماہ اور 16 دن تھی۔
پولیس کو کہا، بچہ میری گود سے گر گیا تھا
اپنے بیٹے کو شدید زخمی کرنے کے بعد بریڈلی تھامس نے تفتیش کاروں کے سامنے حقیقت بیان نہیں کی۔
دوسرے پولیس انٹرویو کے دوران اس نے دعویٰ کیا کہ وہ صوفے پر بیٹھے بیٹھے سو گیا تھا اور ایمرسن اس کے گھٹنے سے فرش پر گر گیا۔
پولیس نے جب اس سے براہِ راست پوچھا کہ کیا اس نے بچے کو جھنجھوڑا تھا تو اس نے انکار کر دیا۔
تاہم طبی، فرانزک اور دیگر شواہد نے اس کی کہانی کی تائید نہیں کی۔ استغاثہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ بچے کو انتہائی تشدد اور طاقت کے ساتھ جھنجھوڑا گیا تھا، جس کے نتیجے میں اسے شدید دماغی چوٹیں آئیں۔
جیوری نے بالآخر بریڈلی کی پیش کردہ کہانی مسترد کرتے ہوئے اسے قتل کا مجرم قرار دے دیا۔
جج کے ریمارکس، ایک مسکراتے بچے سے پوری زندگی چھین لی
سزا سناتے ہوئے جسٹس شیلڈن نے ننھے ایمرسن کو ایک خوبصورت مسکراہٹ رکھنے والا بچہ قرار دیا، جو اپنی مختصر زندگی میں ہی خاندان کے لیے بے پناہ خوشیاں لے کر آیا تھا۔
جج نے کہا کہ ایمرسن ایک صحت مند بچہ تھا اور معمول کے مطابق نشوونما کے مراحل طے کر رہا تھا۔ اس کے سامنے پوری زندگی موجود تھی، لیکن بریڈلی تھامس کے عمل نے اس سے مستقبل چھین لیا۔
عدالت نے تسلیم کیا کہ واقعے کے وقت بریڈلی نیند کی کمی کا شکار تھا اور بچے کے پرسکون نہ ہونے پر جھنجھلا گیا تھا، تاہم جج نے واضح کیا کہ اس نے نہ صرف اپنے بیٹے کو مہلک چوٹیں پہنچائیں بلکہ بعد میں ان لوگوں کو بھی سچ نہیں بتایا جو بچے کی زندگی بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔
پولیس نے کہا، جھوٹی کہانی آخرکار بے نقاب ہوگئی
تحقیقات کی نگرانی کرنے والی عارضی ڈیٹیکٹو سپرنٹنڈنٹ ڈیب فینی نے مقدمے کو انتہائی تکلیف دہ اور جذباتی قرار دیا۔
ان کے مطابق صرف تین ماہ کے بچے کی موت کی تحقیقات پولیس ٹیم کے لیے ایک نہایت مشکل مرحلہ تھا، لیکن تمام اہلکار ایمرسن اوک کو انصاف دلانے پر پوری طرح مرکوز رہے۔
پولیس افسر نے کہا کہ کوئی سزا بچے کو واپس نہیں لا سکتی اور نہ ہی خاندان کے ناقابلِ بیان نقصان کا ازالہ ممکن ہے، تاہم عدالتی فیصلے کے بعد بریڈلی تھامس کو اپنے اعمال کا جواب دہ ٹھہرایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جیوری نے ملزم کی جانب سے بار بار پیش کی جانے والی جھوٹی کہانی کو مسترد کر دیا اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر حقیقت تک پہنچی۔
پولیس کے مطابق ایمرسن خود اپنی کہانی بیان نہیں کر سکتا تھا، اس لیے تفتیشی ٹیم نے اس معصوم بچے کو انصاف دلانے اور اس کی آواز بننے کو اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھا۔
تین ماہ اور 16 دن کی مختصر زندگی
ایمرسن اوک تھامس صرف تین ماہ اور 16 دن اس دنیا میں زندہ رہا۔ عدالت کے مطابق وہ ایک صحت مند اور مسکراتا ہوا بچہ تھا جس نے مختصر وقت میں اپنے خاندان کی زندگی میں خوشیاں بھر دی تھیں۔
مگر ایک رات کی جھنجھلاہٹ، شدید تشدد اور پھر حقیقت چھپانے کی کوشش نے ایک معصوم بچے کی زندگی ہمیشہ کے لیے ختم کر دی۔
بریڈلی تھامس اب عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے اور عدالتی حکم کے مطابق اسے رہائی پر غور سے پہلے کم از کم 14 سال جیل میں گزارنا ہوں گے۔
