تکبیر نیوز (برمنگھم): برمنگھم میں پڑوسن کو نسل پرستانہ بدسلوکی کا نشانہ بنانے اور پولیس افسر کے خلاف توہین آمیز ہم جنس پرستانہ الفاظ استعمال کرنے والے 37 سالہ شخص کو عدالت نے 12 ماہ کے کمیونٹی آرڈر کی سزا سنا دی۔
برمنگھم مجسٹریٹس کی عدالت میں پیش کیے گئے مقدمے کے مطابق ایلک اسٹون کورٹ کے رہائشی ایڈم ڈفی نے اپنی پڑوسن کے خلاف نسل پرستانہ زبان استعمال کی جبکہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے پہنچنے والے پولیس افسر کو بھی توہین آمیز گالیاں دیں۔
کھڑکی سے پڑوسن کو گالیاں دینے کا الزام
عدالت کو بتایا گیا کہ واقعہ 15 نومبر 2024 کو پیش آیا۔ استغاثہ کے مطابق ایڈم ڈفی نے اپنے گھر کی بالائی منزل کی کھڑکی سے چیخنا شروع کیا اور اپنی پڑوسن کو نسل پرستانہ الفاظ کے ساتھ دیگر توہین آمیز جملے کہے۔
پراسیکیوٹر مس بیگم نے عدالت کو بتایا کہ متاثرہ خاتون نے ملزم کو نسل پرستانہ گالیاں دیتے سنا۔ عدالتی کارروائی کے دوران بتایا گیا کہ ڈفی نے خاتون کو مخاطب کرتے ہوئے اس کی رنگت کا حوالہ بھی دیا اور الزام لگایا کہ وہ اسے ہراساں کر رہی ہے۔
مقدمے کی دستیاب تفصیلات کے مطابق واقعے کے وقت ڈفی شراب اور منشیات کے زیر اثر تھا۔ پولیس کی مداخلت کے دوران اس نے ایک افسر کے خلاف بھی ہم جنس پرستانہ نوعیت کے توہین آمیز الفاظ استعمال کیے۔
عدالت نے رویہ ناقابل قبول قرار دے دیا
برمنگھم مجسٹریٹس کی عدالت نے ڈفی کے طرز عمل کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے اسے 12 ماہ کے کمیونٹی آرڈر کا پابند کیا۔
عدالتی حکم کے تحت اسے 25 روزہ بحالی سرگرمیوں میں حصہ لینا ہوگا جبکہ تین ماہ تک شراب نوشی کے علاج کے پروگرام سے بھی گزرنا پڑے گا۔
اس کے علاوہ ڈفی کو مجموعی طور پر 375 پاؤنڈ کی مالی ادائیگیاں کرنے کا حکم دیا گیا، جن میں عدالتی اخراجات اور متعلقہ سرچارج شامل ہیں۔
دفاع نے ذاتی حالات عدالت کے سامنے رکھے
دفاع کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ایڈم ڈفی ماضی میں ملازمت کرتا رہا ہے تاہم ذاتی مسائل کے باعث اب ریاستی مالی معاونت حاصل کر رہا ہے۔
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ واقعے کے بعد ڈفی اور اس کے پڑوسیوں کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے اور فریقین کے درمیان معاملات کسی حد تک معمول پر آ چکے ہیں۔
تاہم عدالت نے واضح کیا کہ نسل، رنگ یا جنسی رجحان کو بنیاد بنا کر کسی شخص کو توہین آمیز زبان کا نشانہ بنانا قابل قبول نہیں۔
نفرت انگیز بدسلوکی کے مقدمات کیوں اہم ہیں؟
برطانیہ میں اگر کسی جرم کے دوران متاثرہ شخص کی نسل یا دیگر محفوظ خصوصیات کو نشانہ بنایا جائے تو ایسے حالات مقدمے کی سنگینی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ پولیس اور عدالتیں اس نوعیت کے واقعات کو صرف پڑوسیوں کے درمیان معمولی تنازع کے طور پر نہیں دیکھتیں، خصوصاً جب توہین آمیز زبان مسلسل یا براہ راست کسی مخصوص شناخت کو نشانہ بنائے۔
ایڈم ڈفی کے مقدمے میں عدالت نے قید کے بجائے کمیونٹی آرڈر، بحالی اور شراب نوشی کے علاج کا راستہ اختیار کیا۔ اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدالت نے سزا کے ساتھ ان عوامل سے نمٹنے پر بھی توجہ دی جو ملزم کے رویے سے منسلک بتائے گئے۔
اب آگے کیا ہوگا؟
ڈفی کو آئندہ 12 ماہ تک کمیونٹی آرڈر کی تمام شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔ اسے مقررہ بحالی سرگرمیوں اور تین ماہ کے الکحل ٹریٹمنٹ پروگرام میں شرکت یقینی بنانا ہوگی۔
عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں معاملہ دوبارہ عدالت کے سامنے آ سکتا ہے اور مزید قانونی کارروائی ممکن ہے۔
یہ مقدمہ ایک بار پھر یاد دلاتا ہے کہ گھریلو یا پڑوسیوں کے تنازعات میں نسل پرستانہ اور امتیازی زبان کا استعمال سنگین قانونی نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ برمنگھم کی عدالت نے اپنے فیصلے میں ڈفی کے رویے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے سزا کے ساتھ اصلاحی اقدامات بھی عائد کیے ہیں۔
