(تکبیر نیوز—- فرانس، ڈنکرک)
فرانس میں تارکین وطن کی اسمگلنگ کے ایک مقدمے میں اس وقت غیر معمولی صورتحال پیدا ہوگئی جب ایک مبینہ اسمگلر نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ جس کشتی کو پولیس اسمگلنگ میں استعمال ہونے والی کشتی قرار دے رہی ہے، وہ دراصل ایک انفلٹیبل سوئمنگ پول سمجھ رہا تھا۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانسیسی پولیس نے ایک عراقی تارک وطن کو ڈنکرک کے قریب گریولینز کے علاقے سے حراست میں لیا تھا۔ حکام کا مؤقف تھا کہ ملزم ایک ایسی کشتی لے جا رہا تھا جو تارکین وطن کو غیر قانونی طور پر برطانیہ پہنچانے کے لیے استعمال کی جا سکتی تھی۔
تحقیقات کے دوران ملزم نے حیران کن مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اسے یقین تھا کہ وہ ایک پھولنے والا سوئمنگ پول لے جا رہا ہے اور اسے اس بات کا علم نہیں تھا کہ اسے غیر قانونی کراسنگ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم پر یہ الزام بھی تھا کہ وہ تارکین وطن سے مبینہ طور پر تقریباً 600 ڈالر فی فرد وصول کر رہا تھا۔ بعد ازاں اسے ڈنکرک کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں مقدمے کی سماعت کے دوران اس کے بیان کو مدنظر رکھتے ہوئے سزا معطل کر دی گئی اور اسے فوری طور پر جیل بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔
عدالتی فیصلے کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے مایوسی کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ کیلس اور ڈنکرک کے درمیان واقع ساحلی علاقے طویل عرصے سے غیر قانونی کراسنگ کی کوششوں کا مرکز رہے ہیں، جہاں فرانسیسی پولیس کو اسمگلنگ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں میں مسلسل مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔
یاد رہے کہ شمالی فرانس کے ساحلی علاقوں سے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچنے کی کوششوں میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث فرانسیسی اور برطانوی حکام مسلسل کریک ڈاؤن کر رہے ہیں۔
