(تکبیر نیوز—- برطانیہ، ڈربی شائر)
برطانیہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے سے ایک غیر معمولی اور سنگین معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک پولیس افسر کے خلاف مبینہ طور پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے عدالتی شواہد تیار کرنے کے الزام میں تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
یہ برطانوی فوجداری نظامِ انصاف میں اپنی نوعیت کا پہلا معلوم کیس قرار دیا جا رہا ہے، جس نے پولیس اور عدالتی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
ڈربی شائر پولیس کے مطابق ایک افسر پر الزام ہے کہ اس نے متعدد مقدمات میں شواہد کے طور پر استعمال ہونے والے مواد کی تیاری میں مصنوعی ذہانت کے نظام کا استعمال کیا۔ الزام سامنے آنے کے بعد افسر کو فوری طور پر فیلڈ ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مجرمانہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا کسی مقدمے میں شواہد کو غیر قانونی طور پر تیار یا تبدیل کیا گیا تھا۔
حکام کے مطابق تحقیقات "انصاف کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے” کے ممکنہ جرم کے تحت کی جا رہی ہیں، جو برطانیہ میں انتہائی سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہو سکتی ہے۔
ڈربی شائر پولیس نے متعلقہ افسر کا نام، عہدہ یا ان مقدمات کی تفصیلات جاری نہیں کیں جن پر اس معاملے کے اثرات پڑ سکتے ہیں۔
پولیس نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ مبینہ طور پر کتنے مقدمات متاثر ہوئے ہیں یا آیا اس معاملے کے نتیجے میں کسی شخص کو سزا سنائی گئی یا جیل بھیجا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ پولیس اس معاملے میں استغاثہ کے ادارے کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ ایسے تمام مقدمات کا جائزہ لیا جا سکے جن پر اس الزام کے ممکنہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب کراؤن پراسیکیوشن سروس (CPS) نے تصدیق کی ہے کہ وہ ڈربی شائر پولیس کے ساتھ تعاون کر رہی ہے اور متاثرہ مقدمات کے حوالے سے وکلا اور عدالتوں سے بھی رابطے میں ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور فی الحال کسی شخص کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔
اس واقعے نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال اور عدالتی نظام میں اس کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ ماہرین شفافیت اور شواہد کی صداقت کو یقینی بنانے پر زور دے رہے ہیں۔
