(تکبیر نیوز—- برطانیہ، برمنگھم)
برمنگھم سے تعلق رکھنے والے ایک منشیات فروش کو ہیروئن اور کریک کوکین کی سپلائی میں ملوث ہونے پر تین سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ ملزم نے پولیس چھاپے کے دوران ثبوت چھپانے اور اپنے موبائل فون کو ناکارہ بنانے کی کوشش بھی کی تھی۔
31 سالہ شکیل شرلی مارچ 2020 میں اسٹافورڈ شائر کے علاقے کینوک میں ایک گھر میں موجود تھا جب منظم جرائم کے خلاف کارروائی کرنے والی پولیس ٹیم نے چھاپہ مارا۔
پولیس کے مطابق اہلکاروں نے جب گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو ملزم نے دروازہ کھولنے سے انکار کر دیا اور اوپر والے کمرے کی کھڑکی سے پولیس اہلکاروں پر چیختا رہا۔
بعد ازاں جب پولیس اہلکار گھر کے اندر داخل ہوئے تو شکیل شرلی اپنے موبائل فون کو کھول کر اس کے پرزے الگ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے فون کی بیٹری اپنی جیب میں چھپا کر ممکنہ شواہد مٹانے کی کوشش کی۔
چھاپے کے دوران منشیات سونگھنے والے خصوصی کتے کی مدد سے گھر کی تلاشی لی گئی تو بچوں کے بستر کے پیچھے چھپائی گئی ہیروئن اور کریک کوکین برآمد ہوئی۔
تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ملزم کینوک میں کلاس اے منشیات کی سپلائی کے ایک نیٹ ورک سے منسلک تھا اور طویل عرصے سے علاقے میں منشیات فروخت کر رہا تھا۔
عدالتی کارروائی کے دوران شکیل شرلی نے کریک کوکین اور ہیروئن کی سپلائی میں ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا۔
اسٹافورڈ کراؤن کورٹ نے 5 جون کو فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو تین سال قید کی سزا سنا دی۔
اسٹافورڈ شائر پولیس کے ترجمان نے کہا کہ منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور ایسے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جائیں گے۔
