(تکبیر نیوز—- برطانیہ، ناٹنگھم شائر)
برطانیہ میں جیل کے اندر منشیات کے استعمال سے ایک اور قیدی کی ہلاکت کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ بولٹن سے تعلق رکھنے والا 24 سالہ ایڈم ڈائسا گرین گزشتہ سال ناٹنگھم شائر کی لوڈھم گرینج جیل میں ہلاک ہو گیا تھا، جبکہ اب شائع ہونے والی سرکاری تحقیقاتی رپورٹ میں اس کی موت کی وجوہات سامنے آ گئی ہیں۔
جیل اور پروبیشن محتسب کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق ایڈم ڈائسا گرین 17 جنوری 2025 کو اس وقت دل بند ہونے کے باعث جان کی بازی ہار گیا جب اس نے ترمیم شدہ ویپ ڈیوائس کے ذریعے مصنوعی منشیات "اسپائس” استعمال کی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جیل عملے نے شام کے وقت قیدیوں کو سیلوں میں بند کرتے ہوئے ایڈم کو بے ہوش حالت میں پایا۔ طبی عملے اور پیرامیڈکس نے اسے بچانے کی بھرپور کوشش کی، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا اور موقع پر ہی اس کی موت واقع ہو گئی۔
پوسٹ مارٹم اور زہریلے مادوں کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ اس کے جسم میں مصنوعی کینابینوئیڈز اور حالیہ کیٹامین استعمال کے شواہد موجود تھے۔ ماہرین کے مطابق دل بند ہونے کی بنیادی وجہ مصنوعی منشیات کا استعمال تھا۔
ایڈم ڈائسا گرین کو مئی 2023 میں سنگین جسمانی نقصان پہنچانے کے جرم میں پانچ سال اور دس ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس کا نام اس وقت خبروں میں آیا تھا جب وہ بولٹن میں ٹائرون ولیمسن کے قتل کے بعد ہونے والے ایک انتقامی حملے میں ملوث پایا گیا تھا۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایڈم کو جیل میں منشیات اور شراب کے استعمال کی طویل تاریخ تھی۔ نومبر 2024 میں بھی اسے منشیات کے اثرات میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ جیل میں غیر قانونی طور پر تیار کی گئی شراب استعمال کرنے کا اعتراف بھی کر چکا تھا۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس کی موت کے بعد جیل سیل کی تلاشی کے دوران 34 چھیڑ چھاڑ شدہ ویپ کیپسول، ایک یو ایس بی ڈیوائس، تین ہتھیار نما اشیاء اور غیر قانونی شراب بھی برآمد ہوئی۔
محتسب ایڈرین اشر کے مطابق ایڈم نے اپنی موت سے صرف دو دن قبل منشیات سے متعلق ایک آگاہی اجلاس میں شرکت کی تھی جہاں نفسیاتی اثرات پیدا کرنے والی منشیات کے خطرات پر تفصیلی بات کی گئی تھی۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ مارچ 2024 سے اپریل 2025 کے درمیان لوڈھم گرینج جیل میں ایڈم سمیت چھ قیدی بظاہر منشیات کے زہریلے اثرات کے باعث ہلاک ہوئے۔
تحقیقات کے اختتام پر عدالتی سماعت میں "مس ایڈونچر” (غیر ارادی مگر خطرناک عمل کے نتیجے میں موت) کا فیصلہ ریکارڈ کیا گیا۔
