(تکبیر نیوز—- برطانیہ، مانچسٹر)
مانچسٹر کے ایک ہائی اسکول میں پیش آنے والے سنسنی خیز چاقو حملے کے واقعے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں 14 سالہ لڑکی پر اقدامِ قتل کے تین الزامات عائد کر دیے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق 9 جون کو مانچسٹر کے علاقے بلیکلی میں واقع کوآپ اکیڈمی مانچسٹر میں چاقو حملے کی اطلاع موصول ہوئی تھی، جس کے بعد ہنگامی سروسز اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔
تحقیقات کے بعد استغاثہ کی منظوری ملنے پر 14 سالہ لڑکی پر تین افراد کے قتل کی کوشش کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اس پر اسکول کے احاطے میں دھاردار ہتھیار رکھنے کے دو الگ الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق ملزمہ آج ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ میں پیش ہو کر الزامات کا سامنا کرے گی۔
انسداد دہشت گردی پولیس شمال مغرب کے سربراہ Jonathan Chadwick نے کہا کہ ایک کم عمر لڑکی پر اس نوعیت کے سنگین الزامات عائد ہونا انتہائی غیر معمولی اور تشویشناک معاملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد، ان کے اہل خانہ اور اسکول کمیونٹی کو مکمل معاونت فراہم کی جا رہی ہے کیونکہ اس واقعے نے پورے تعلیمی ادارے کو شدید متاثر کیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اگرچہ ملزمہ پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے، تاہم تحقیقات ابھی جاری ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مزید شواہد اکٹھے کرنے میں مصروف ہیں۔
قانونی وجوہات کی بنا پر ملزمہ کی شناخت ظاہر نہیں کی جا رہی جبکہ متاثرہ افراد کے بارے میں بھی محدود معلومات جاری کی گئی ہیں۔
واقعے کے بعد علاقے میں تشویش پائی جاتی ہے اور اسکول انتظامیہ طلبہ اور عملے کو نفسیاتی اور تعلیمی معاونت فراہم کر رہی ہے۔
