(تکبیر نیوز—- برطانیہ، والسال)
برطانیہ کے علاقے والسال میں تین کتوں کے مبینہ حملے سے متعلق مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایک شخص نے عدالت میں پیش ہو کر تمام الزامات سے انکار کر دیا۔
46 سالہ اینڈریو سیلزمین نے برمنگھم مجسٹریٹس کورٹ میں پیشی کے دوران اس الزام کو مسترد کر دیا کہ اس کے زیرِ نگرانی تین کتوں نے دو افراد کو زخمی کیا تھا۔
استغاثہ کے مطابق مقدمہ گزشتہ سال 2 مئی کو والسال کے علاقے ڈارلسٹن میں واقع بین فیلڈ روڈ پر پیش آنے والے ایک واقعے سے متعلق ہے، جس میں ایک مرد اور ایک خاتون کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق ملزم پر تین الگ الگ الزامات عائد کیے گئے ہیں جن میں خطرناک انداز میں قابو سے باہر ہونے والے کتوں کی ملکیت یا نگرانی اور ان کے باعث افراد کے زخمی ہونے کا الزام شامل ہے۔
مقدمے میں شامل کتوں کے نام ایسکوبار، بیٹسی اور جیزوبیل بتائے گئے ہیں۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق ایسکوبار کو سیاہ رنگ کے امریکن بل ڈاگ کراس نسل کا کتا قرار دیا گیا جبکہ بیٹسی اور جیزوبیل کو بڑی جسامت والی بل نسل کے کراس کتوں کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اینڈریو سیلزمین اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ شکایت کنندگان کو آنے والی چوٹیں ان کے کتوں کے باعث لگیں۔
استغاثہ کی نمائندہ لینا اختر نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے کی سماعت کے دوران متعدد گواہوں کو طلب کیا جائے گا جن میں عینی شاہدین اور ویسٹ مڈلینڈز پولیس کے ڈاگ لیجسلیشن آفیسر بھی شامل ہوں گے۔
عدالت میں دستیاب تاریخوں کی کمی کے باعث مقدمے کی مکمل سماعت اگلے سال اپریل تک مؤخر کر دی گئی ہے۔ اس دوران ملزم کو بغیر کسی شرط کے ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔
عدالتی کارروائی جاری ہے اور حتمی فیصلہ شواہد اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں کیا جائے گا۔
