(تکبیر نیوز—- برطانیہ، بریڈ فورڈ) بریڈ فورڈ میں ہونے والے لوکل الیکشن 2026 نے مقامی سیاست کا نقشہ بدل کر رکھ دیا جہاں کسی ایک جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہ ہو سکی، تاہم ریفارم یوکے سب سے بڑی سیاسی قوت بن کر سامنے آگئی جبکہ لیبر پارٹی کو نمایاں سیاسی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
نئی حلقہ بندیوں کے تحت ہونے والے ان انتخابات کے نتائج سامنے آتے ہی مختلف علاقوں میں جشن کا ماحول دیکھنے میں آیا۔ کامیاب امیدواروں اور ان کے حامیوں نے ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے، نعرے بازی کی اور فتح کو “عوامی فیصلہ” قرار دیا۔
پولنگ اسٹیشنوں اور ووٹوں کی گنتی کے مراکز کے باہر رات گئے تک سیاسی سرگرمیاں جاری رہیں جبکہ مختلف جماعتوں کے کارکنان اپنی اپنی کامیابیوں کا جشن مناتے رہے۔
سرکاری نتائج کے مطابق 87 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں ریفارم یوکے نے 29 نشستیں حاصل کر کے سب سے بڑی جماعت کا اعزاز حاصل کیا۔ کنزرویٹو پارٹی 18 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی جبکہ لیبر پارٹی 17 نشستیں حاصل کر سکی۔ گرین پارٹی نے 9 نشستیں جیتیں، لبرل ڈیموکریٹس ایک نشست لینے میں کامیاب رہے جبکہ 13 آزاد امیدواروں نے بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔
تاہم کسی بھی جماعت کو کونسل پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کیلئے درکار اکثریت نہ مل سکی جس کے بعد اب اتحادی سیاست اور پاور شیئرنگ سے متعلق مشاورت متوقع ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس انتخاب میں مہنگائی، کونسل ٹیکس، صفائی ستھرائی، سڑکوں کی خراب صورتحال، مقامی ترقیاتی منصوبے اور تارکین وطن سے متعلق مباحث اہم انتخابی موضوعات رہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کئی علاقوں میں ووٹرز نے روایتی سیاسی جماعتوں کے بجائے متبادل قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا، جسے بریڈ فورڈ کی سیاست میں بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
کامیاب امیدواروں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے تبدیلی کے حق میں فیصلہ دیا ہے اور اب ان کی اولین ترجیح مقامی مسائل کا حل ہوگا۔ بعض امیدواروں نے نوجوانوں کیلئے مواقع، کمیونٹی کی نمائندگی اور بنیادی سہولیات کی بہتری کو اپنی سیاسی ترجیحات قرار دیا۔
دوسری جانب لیبر پارٹی کیلئے یہ نتائج خاصے مایوس کن قرار دیے جا رہے ہیں کیونکہ بریڈ فورڈ کو طویل عرصے سے لیبر کا مضبوط سیاسی گڑھ سمجھا جاتا تھا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق نئی حلقہ بندیاں، عوامی ناراضی اور مقامی سطح پر بدلتے سیاسی رجحانات نے روایتی ووٹنگ پیٹرن کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
انتخابات کے دوران ووٹر ٹرن آؤٹ بھی قابل توجہ رہا جبکہ مختلف وارڈز میں انتہائی سخت مقابلے دیکھنے میں آئے۔ کئی نشستوں کے نتائج معمولی فرق سے طے ہوئے جس سے انتخابی ماحول کی شدت واضح طور پر محسوس کی گئی۔
بریڈ فورڈ کے یہ نتائج نہ صرف مقامی حکومت بلکہ مستقبل کی برطانوی سیاست کیلئے بھی اہم اشارے تصور کیے جا رہے ہیں کیونکہ ان سے عوامی ترجیحات اور سیاسی رجحانات میں واضح تبدیلی سامنے آئی ہے۔
