عراق میں ساڑھے 3ہزار سال پرانی بستی نمودار

دریائے دجلہ خشک ہونے پر بستی نمودار ہوئی

17

ماہرینِ آثار قدیمہ کے ایک بین الاقوامی گروپ نے گزشتہ ہفتے اس حوالے سے تفصیلات جاری کیں۔وائس آف امریکا کے مطابق ماہرین نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ دریائے دجلہ کے خشک ہونیوالے حصے سے ظاہر ہونیوالی بستی 1475 قبل مسیح سے 1275 قبل مسیح کے درمیان قائم ہوئی تھی، اس زمانے میں دریائے دجلہ اور فرات کے جنوب میں میتانی سلطنت قائم تھی۔عراق میں قدیم باقیات دریائے دجلہ پر موصل میں کیمونے کے علاقے میں قائم ڈیم کی نچلی سطح پر نمودار ہوئی ہیں۔ یہ ڈیم ملک میں پانی کا ایک بڑا ذخیرہ قرار دیا جاتا رہا ہے لیکن آب و ہوا کی تبدیلیوں سے پانی کی کمی کے سبب اب یہ خشک ہورہا ہے۔دریافت ہونیوالی قدیم بستی میں مٹی سے بنی قلعہ نما عمارات کے واضح نشانات موجود ہیں، ان میں بعض عمارتیں ایک سے زیادہ منزلوں کی بھی تھیں، جبکہ بعض مقامات پر ٹاور بھی بنے ہوئے تھے، جس سے ان کے محل ہونے کا امکان ظاہر ہوتا ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ یہ بستی ‘میتانی سلطنت’ کے تجارتی مرکز کا درجہ رکھتی تھی۔ رپورٹ کے مطابق عراق ماحولیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہے اور کانسی کے زمانے کی بھی ایک بستی نمودار ہوئی ہے۔ماہرینِ آثار قدیمہ نے انتہائی کم وقت میں اس بستی کے نقشے بنائے تاکہ اس کی باقیات کو جلد از جلد سامنے لایا جاسکے، اس میں ایسے حصے بھی دریافت ہوئے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ میتانی سلطنت میں غلہ بھی اسی بستی سے لایا جاتا تھا، کیونکہ اس میں ایک ایسی عمارت بھی ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ اس میں مختلف فصلوں سے آنیوالے اناج کو محفوظ رکھا جاتا ہوگا۔ماہرین کے مطابق اس بستی میں جو بھی تعمیرات ملی ہیں اس میں مٹی کی اینٹیں یا بلاک استعمال کئے گئے تھے، ان اینٹوں کو دھوپ میں خشک کیا گیا تھا، اس کے بعد ان کا تعمیرات میں استعمال کیا گیا۔ ماہرین نے کئی ایسی دیواریں بھی دریافت کی ہیں جو اب بھی درست حالت میں ہیں۔ماہرین کا خیال ہے کہ اس بستی میں لگ بھگ 3 ہزار 350 سال قبل یعنی 1350 قبل مسیح میں زلزلہ آیا تھا۔ اس قدیم بستی کی باقیات سے ماہرین کو 5 ظروف بھی ملے ہیں، جن میں لگ بھگ 100 ایسے چھوٹے چھوٹے مٹی کے ٹکڑے بھی شامل ہیں جن پر کچھ عبارتیں کنندہ ہے، مٹی سے بنے ان برتنوں پر اشوریہ دورِ حکومت کی تاریخیں درج ہیں، جو اس شہر کے تباہ ہونے کے زمانے میں ہی اس علاقے میں اشوریہ سلطنت بننے کے شواہد ہوسکتے ہیں۔ماہرین کو مٹی کے کچھ ایسے کتبے بھی ملے ہیں جن کے مٹی سے بنے غلاف موجود ہیں، مٹی کے غلاف میں موجود ان ٹکڑوں پر عبارت درج ہونے کے سبب ماہرین ان کو خطوط قرار دے رہے ہیں۔آثارِ قدیمہ کے ماہرین امید ظاہر کررہے ہیں کہ اس دریافت سے میتانی سلطنت کے زمانے کے اس شہر کی بہت سی اہم معلومات سامنے آسکتی ہیں، جبکہ اس خطے میں اشوریہ سلطنت کے قیام کی تفصیلات بھی معلوم ہوسکتی ہیں۔ماہرین مٹی سے بنی ان اشیا کے اتنے طویل عرصے تک پانی میں موجود رہنے کے باوجود محفوظ رہنے کو بھی ایک معجزہ قرار دے رہے ہیں جبکہ ان پانی بلند ہونے کی صورت میں انہیں تباہی سے بچانے کیلئے اقدامات بھی شروع کردیئے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں:  شام، دمشق میں اسرائیل کے ایران اور حزب اللہ کے ٹھکانوں پر میزائل حملے
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.