ناسا سمندری طوفانوں پر تحقیق کےلیے چھ سیارے روانہ کرے گا

12

دنیا بھر میں موسمیاتی شدت کے ساتھ سمندری طوفانوں  یعنی سائیکلون کے واقعات  بھی تیزی سے بڑھ رہے اور اب ناسا نے ان کا جائزہ لینے کے لئے چھ مختلف سیٹلائٹس کا منصوبہ بنایا ہے۔

توقع ہے کہ ان میں سے پہلے دو جدید سیٹلائٹ اسی ماہ مدار میں بھیجے جائیں گے۔ سیٹلائٹ کو بطورِ خاص سائیکلون بننے کے مراحل اور شدت سمجھنے کے لیے تیار کیا جائے گا۔ ناسا کے اعلان کے مطابق انہیں ٹراپکس یعنی ٹائم ریزولوڈ آبزرویشن اینڈ پری سپیٹیشن  اسٹرکچر اینڈ اسٹورم انٹینسٹی ود کانسٹلیشن آف اسمال سیٹلائٹس کا نام دیا گیا ہے۔

یہ چھوٹے سیٹلائٹ کی اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں کیوب سیٹس کا نام دیا گیا ہے۔ اپنی چھوٹی جسامت اورقدرے نچلے مدار کی بنا پر یہ زمین کے تقریباً غالب حصے پر رہ کر سمندری احوال  کی خبر لیں گے ۔ ان کا اہم مقصد سمندری سطح کے دباؤ میں تبدیلی، بخارات بننے کا عمل اور سمندری طوفان کی تشکیل سمجھنا ہے۔ اسی بنا پر ابتدائی طور پر خبردار کرنے یعنی ارلی وارننگ سسٹم بنایا جاسکے گا۔

اس وقت سمندروں پر نظر رکھنے والے جتنے سیٹلائٹ مثلاً نووا اور ارتھ اسپاٹ ہیں وہ چھ گھنٹے بعد ہی کسی مقام کو دوبارہ دیکھ سکتے ہیں اور اس دوران بہت کچھ بدل چکا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناسا کے ٹراپکس سیٹلائٹ ڈیٹا اور معلومات کے اس خلا کو پر کرنے میں مدد دیں گے۔

مزید پڑھیں:  ملک میں امریکی ڈالر مزید مہنگا ہوگیا
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.