امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مشتبہ حملہ آور کی شناخت 31 سالہ کول تھامس ایلن کے طور پر ہوئی ہے، جو کیلیفورنیا کے شہر ٹورنز کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔
میڈیا بریفنگ میں میئر واشنگٹن نے کہا ہے کہ واحد مسلح شخص لابی میں سیکریٹ سروس کی طرف بڑھا، جسے سیکریٹ سروس کے ایک اہلکار نے روک دیا۔
واشنگٹن کے پولیس چیف کا کہنا ہے کہ یہ بات ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی کہ مشتبہ شخص نے حملہ کیوں کیا، مشتبہ شخص کا ہدف کون تھا، یہ تحقیقات کا حصہ ہے
پولیس چیف نے کہا کہ ہوٹل کی ویڈیو فوٹیج کا جائزہ لیا جائے گا کہ حملہ آور ہتھیار کے ساتھ اندر کیسے داخل ہوا، مبینہ حملہ آور کے پاس ایک شاٹ گن، ایک ہینڈ گن اور متعدد چاقو تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی معلومات کی بنیاد پر خیال ہے کہ مشتبہ شخص ہوٹل میں مہمان تھا، ملزم کو پیر کے روز عدالت میں فردِ جرم عائد کرنے کے لیے پیش کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ہفتے کی رات کو واشنگٹن میں صدر ٹرمپ کی موجودگی میں پریس ڈنر کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، امریکی صدر اور دیگر محفوظ رہے جبکہ حملہ آور پکڑا گیا۔
فائرنگ کے واقعے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ مشتبہ شخص کے پاس بہت سے ہتھیار تھے، سیکریٹ سروس نے فوری اور بہادری سے کارروائی کی، مشتبہ شخص نے سکیورٹی چیک پوائنٹ پر حملہ کیا۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر میں فائرنگ کے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ مشتبہ شخص نے 15 گز دور سے حملے کی کوشش کی، خیال ہے ہدف میں ہی تھا، میرے خیال میں شوٹنگ کا ایران جنگ سے تعلق نہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ یہ انتہائی حیرت انگیز لمحہ تھا، ٹرے گرنے کی زوردار آوازیں سنیں، میں دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ کیا ہوا، میلانیا نےفوراً کہا بری آواز ہے۔
