حکام کے پاس مسافروں کا کتنا فلائٹ ڈیٹا رہے گا ؟ یورپی عدالت کا بڑا فیصلہ

14

یورپی عدالت انصاف نے حد مقرر کی ہے کہ فضائی سفر کرنے والے افراد کا صرف انتہائی لازمی ڈیٹا ہی حکام کو فراہم کیا جائے گا۔

یورپی عدالت انصاف (ای سی جے) نے ایک مقدمے میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ تجارتی فضائی کمپنیاں اس امر کی پابند ہیں اور رہیں گی کہ یورپی یونین کے رکن ممالک میں آنے اور وہاں سے باہر کے ممالک کے لیے روانہ ہونے والے مسافروں کا فلائٹ ڈیٹا اس بلاک میں سکیورٹی اداروں کو مہیا کیا جائے تاہم، اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے یورپی اداروں کو مسافروں سے متعلق ایسی نجی معلومات صرف انتہائی لازمی حد تک ہی مہیا کی جائیں۔

یورپی عدالت کا فیصلہ کیا کہتا ہے ؟

یورپی عدالت برائے انصاف نے منگل کے روز اپنے فیصلے میں کہا کہ اس امر کی بھی ایک حد ہونا چاہیے کہ یورپ کی طرف اور یورپ سے فضائی سفر کرنے والے مسافروں سے متعلق ان کی نجی معلومات اور سفری تفصیلات کتنی اور کس طرح حاصل کی جاتی ہیں اور انہیں کس حد تک سکیورٹی اداروں کو مہیا کیا جانا چاہیے۔

واضح رہے، یہ مقدمہ شہری حقوق کے لیے کام کرنے والی کئی یورپی تنظیموں کی طرف سے مشترکہ طور پر دائر کیا گیا تھا۔

مذکورہ بالا مقدمے میں کہا گیا تھا کہ یورپی یونین میں فضائی سفر کرنے والے باشندوں کے نجی کوائف جمع کرنے کا عمل اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اس کے ذریعے امتیازی برتاؤ اور شہریوں کی وسیع تر پیمانے پر نگرانی کا خطرہ بھی بہت زیادہ ہو چکا ہے۔

مزید پڑھیں:  کراچی: ناردرن بائی پاس سے ملنے والی نوجوان کی لاش کی شناخت

پی این آر

مقدمے کا تعلق بینادی طور پر یورپی یونین کے مسافروں کے ناموں سے متعلق ریکارڈ کا احاطہ کرنے والے اس ہدایت نامے سے تھا، جسے مختصراﹰ پی این آر کہتے ہیں۔

یہ یورپی ہدایت نامہ 2016ء میں جاری کیا گیا تھا۔ اس طریقہ کار کے تحت یونین کے رکن ممالک میں پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کو یہ حق حاصل ہے کہ انہیں یونین میں آنے جانے والے تمام فضائی مسافروں کے ڈیٹا تک رسائی حاصل ہو۔کچھ واقعات میں تو ایسے مسافروں کے بارے میں بھی یہی ڈیٹا جمع کر کے حکام کو فراہم کیا جاتا ہے جو اس بلاک کے اندر ہی فضائی سفر کر رہے ہوں۔ اس طرح مسافروں کے کوائف جمع کرنے کا مقصد شدید نوعیت کے جرائم کی روک تھام کے علاوہ ممکنہ دہشت گردی کا قبل از وقت تدارک بھی بتایا جاتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.