تکبیر نیوز (لندن): سابق برطانوی شہزادے اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر نے امریکی مجرم جیفری ایپسٹین سے تعلقات کے حوالے سے جاری تحقیقات کے دوران ان کی رہائش گاہوں کی تلاشی کے لیے جاری کیے گئے سرچ وارنٹس کو لندن ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔
عدالتی ترجمان کے مطابق اینڈریو کی درخواست پر سماعت جمعرات کو لندن ہائیکورٹ میں ہوگی۔ عدالتی کارروائی دوپہر 2 بجے مسٹر جسٹس ہلیارڈ کے سامنے شروع ہونے والی ہے۔
اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر چاہتے ہیں کہ عدالت اس بات کا جائزہ لے کہ تھیمز ویلی پولیس نے فروری میں ان کی رہائش گاہوں کی تلاشی کے دوران قانون کے مطابق کارروائی کی تھی یا نہیں۔
دو رہائش گاہوں کی تلاشی لی گئی تھی
رپورٹس کے مطابق اولڈ بیلی کے ایک جج نے سرچ وارنٹس جاری کیے تھے، جن کی بنیاد پر پولیس نے سینڈرنگھم اسٹیٹ میں اینڈریو کی رہائش گاہ اور ونڈسر میں ان کی سابق رہائش گاہ رائل لاج کی تلاشی لی تھی۔
اینڈریو نے عدالتی نظرثانی کے ذریعے ان سرچ وارنٹس کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کی ہے۔
جمعرات کی سماعت کا ایک اہم معاملہ تھیمز ویلی پولیس کی وہ درخواست بھی ہے جس میں عدالتی دستاویزات تک رسائی محدود رکھنے کی استدعا کی گئی ہے۔ سماعت ابتدائی طور پر نجی طور پر ہوگی۔
فروری میں گرفتار کیا گیا تھا
سابق شہزادے کو 19 فروری 2026 کو سرکاری عہدے کے مبینہ غلط استعمال کے شبے میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ان پر الزام ہے کہ برطانیہ کے تجارتی نمائندے کی حیثیت سے کام کرنے کے دوران انہوں نے جیفری ایپسٹین کے ساتھ حساس معلومات کا مبینہ طور پر تبادلہ کیا تھا۔
پولیس نے ان سے کئی گھنٹے پوچھ گچھ کی، جس کے بعد انہیں زیرِ تفتیش رہتے ہوئے رہا کردیا گیا تھا۔
یہ واضح رہے کہ اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر پر اس معاملے میں اب تک کوئی فردِ جرم عائد نہیں کی گئی اور ان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔
تھیمز ویلی پولیس کی تحقیقات جاری
تھیمز ویلی پولیس نے تازہ بیان میں تصدیق کی ہے کہ سرکاری عہدے کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق تحقیقات بدستور جاری ہیں۔
پولیس نے یہ بھی تصدیق کی کہ وہ سینٹرل کریمنل کورٹ سے حاصل کیے گئے سرچ وارنٹس سے متعلق قانونی کارروائی کا حصہ ہے، تاہم مقدمہ عدالت میں ہونے کی وجہ سے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔
اینڈریو کے خلاف تحقیقات کا تعلق ان معلومات سے ہے جو امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جیفری ایپسٹین سے متعلق دستاویزات جاری ہونے کے بعد سامنے آئی تھیں۔
اینڈریو طویل عرصے سے ایپسٹین کے ساتھ اپنے تعلقات کی وجہ سے تنازعات کا سامنا کرتے رہے ہیں اور انہوں نے 2019 میں شاہی ذمہ داریوں سے دستبرداری اختیار کرلی تھی۔
اب ہائیکورٹ میں قانونی کارروائی کے ذریعے یہ جانچ کی جائے گی کہ پولیس کی جانب سے حاصل کیے گئے سرچ وارنٹس قانونی تقاضوں کے مطابق تھے یا نہیں۔
