تکبیر نیوز (لیڈز): برطانوی شہر لیڈز کے علاقے پڈسی میں نیم علیحدہ گھر کا ایک حصہ منہدم کیے جانے سے شروع ہونے والا پڑوسیوں کا تنازع چار سال بعد بھی جاری ہے، جبکہ گھر گرانے والے 47 سالہ کرس روڈز نے اپنے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمارت غیر محفوظ ہوگئی تھی اور اسے گرانا ضروری تھا۔
چار بچوں کے والد کرس روڈز نے جولائی 2022 میں پڈسی میں تین بیڈ روم پر مشتمل نیم علیحدہ مکان 2 لاکھ 80 ہزار پاؤنڈ میں خریدا تھا۔ انہوں نے دو توسیعی تعمیرات کی منصوبہ بندی کی اجازت حاصل کی اور اکتوبر 2022 میں تعمیراتی کام شروع کردیا۔ تاہم کام کے دوران عمارت کا ایک حصہ غیر محفوظ ہونے کے بعد معاملہ انہدام تک پہنچ گیا۔
پڑوسن نے گھر کو نقصان پہنچنے کا دعویٰ کردیا
ملحقہ مکان میں اپنے کم عمر بیٹے اور معمر والدہ کے ساتھ رہنے والی شیوارنا مترا کا دعویٰ ہے کہ انہدام کے بعد ان کے 2 لاکھ 17 ہزار پاؤنڈ مالیت کے گھر کے بعض حصے متاثر ہوئے۔
ان کے مطابق چھت اور دیواروں کے سوراخوں سے پانی داخل ہونے کے باعث گھر میں نمی اور پھپھوندی پیدا ہوئی اور سردیوں میں گھر گرم رکھنے کے لیے ان کا ماہانہ بل تقریباً 630 پاؤنڈ تک پہنچ گیا۔
انہوں نے چوہوں کے بجلی کی تاریں کاٹنے اور گلہریوں اور بھڑوں کے گھر میں داخل ہونے کی شکایت بھی کی۔ تاہم کرس روڈز ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کے تعمیراتی کام سے پڑوسی کے گھر کو نقصان نہیں پہنچا۔
کرس روڈز نے انہدام کو ضروری قرار دیا
کرس کا مؤقف ہے کہ طوفان کے باعث دونوں گھروں کے درمیان موجود دیوار غیر محفوظ ہوگئی تھی اور کسی ممکنہ حادثے سے بچنے کے لیے اسے فوری طور پر گرانا ضروری تھا۔
ان کے مطابق انہوں نے ہیلتھ اینڈ سیفٹی ایگزیکٹو سے بات کی تھی اور ان کا خیال تھا کہ حفاظتی بنیادوں پر دیوار گرانا درست اقدام ہے۔
تاہم بعد میں لیڈز سٹی کونسل نے کہا کہ عمارت ضروری اجازت کے بغیر منہدم کی گئی تھی اور مالک کو انہدام سے متعلق باقاعدہ نوٹس جمع کرانا چاہیے تھا۔
کونسل نے مئی 2023 میں کام روکنے کا باقاعدہ نوٹس جاری کیا، جس کے بارے میں کرس کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس پر عمل کیا۔
پانچ بیڈ روم کا نیا گھر بنانے کا منصوبہ
انہدام کے بعد کرس نے اسی جگہ نیا مکان تعمیر کرنے کی اجازت حاصل کرنے کی کوشش شروع کی۔
پانچ بیڈ روم کے مکان کی پہلی درخواست مسترد ہوگئی، تاہم دوبارہ تیار کردہ منصوبے کو مئی 2024 میں منظوری مل گئی۔
اس کے باوجود کرس نے مکان تعمیر نہیں کیا اور رواں سال منصوبہ بندی کی اجازت سمیت زمین نئے مالکان کو ایک لاکھ 15 ہزار پاؤنڈ میں فروخت کردی۔
کرس کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ وہ اپنی اہلیہ اور بچوں کو مسلسل تنازع اور کشیدگی سے دور رکھنا چاہتے تھے۔
دونوں پڑوسی ایک دوسرے کے الزامات مسترد کرتے ہیں
شیوارنا نے کرس پر جارحانہ رویہ اختیار کرنے کا الزام بھی لگایا، جس کی کرس نے سختی سے تردید کی۔
کرس نے اس کے برعکس دعویٰ کیا کہ شیوارنا تعمیراتی کارکنوں کے ساتھ جارحانہ رویہ اختیار کرتی تھیں اور تعمیراتی کام میں مشکلات پیدا ہوئیں۔ شیوارنا نے ان الزامات کو بھی مسترد کردیا ہے۔
شیوارنا کے مطابق انہوں نے کئی سال بچت کرنے کے بعد مئی 2021 میں اپنا مکان خریدا اور اس کی تزئین و آرائش پر تقریباً 80 ہزار پاؤنڈ خرچ کیے تھے، جن میں تقریباً 35 ہزار پاؤنڈ باغ پر لگائے گئے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ موجودہ صورتحال کے باعث بعض مرمتیں نہیں ہوسکتیں اور انہیں خدشہ ہے کہ گھر فروخت کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔
کونسل نے باقی مکان کو محفوظ قرار دیا
لیڈز سٹی کونسل کے مطابق انہدام کے بعد بلڈنگ کنٹرول افسران نے باقی عمارت کا معائنہ کیا اور نتیجہ اخذ کیا کہ شیوارنا کا مکان ساختی طور پر محفوظ ہے اور اسے اضافی سہارے کی ضرورت نہیں۔
کونسل نے کرس کو مشترکہ دیوار کو موسم کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے اقدامات کے بارے میں بھی ہدایات دیں۔
دوسری جانب ہیلتھ اینڈ سیفٹی ایگزیکٹو نے تصدیق کی کہ اس کے افسران عمارت گرائے جانے کے بعد موقع پر گئے تھے۔ ادارے کے مطابق تعمیراتی سہاروں اور مقام کی حفاظت سے متعلق زبانی ہدایات دی گئیں، جبکہ اس وقت صحت و سلامتی کے قانون کی ایسی کوئی خلاف ورزی سامنے نہیں آئی جس پر باقاعدہ کارروائی ضروری ہوتی۔
