تکبیر نیوز (بیلفاسٹ): شمالی آئرلینڈ میں اپنی 32 ہفتوں کی حاملہ ساتھی سارہ مونٹگمری کو ان کے گھر میں طویل اور وحشیانہ تشدد کے بعد قتل کرنے والے 29 سالہ زیک ہیوز کو عمر قید کی سزا سنادی گئی ہے۔
27 سالہ سارہ مونٹگمری کو 27 جون 2025 کو کاؤنٹی ڈاؤن کے علاقے ڈوناگھڈی میں واقع ان کے فلیٹ میں قتل کیا گیا تھا۔ واقعے کے وقت ان کا ایک کم عمر بچہ باہر گاڑی میں اپنے والد کا انتظار کررہا تھا۔
زیک ہیوز سارہ کے دو بچوں اور ان کے ہونے والے بچے کا والد تھا۔
ہیوز نے اس سے قبل بیلفاسٹ کراؤن کورٹ میں سارہ کے قتل اور ان کے پیٹ میں موجود بچے کی جان لینے کا جرم قبول کرلیا تھا۔
عدالت نے واضح کیا کہ قتل کا جرم قبول کیے جانے کے بعد قانون کے تحت عمر قید ہی سزا ہوسکتی تھی، تاہم اب عدالت یہ طے کرے گی کہ وہ رہائی کیلئے زیر غور آنے سے پہلے کم از کم کتنے سال جیل میں گزارے گا۔
19 منٹ تک جاری رہنے والا حملہ
عدالت کو بتایا گیا کہ سارہ پر حملہ تقریباً 19 منٹ تک جاری رہا۔
استغاثہ کے مطابق ہیوز نے حملے کے دوران ایک پانی کی بوتل بھی استعمال کی جو سارہ نے اپنے بچوں کی جانب سے اسے فادرز ڈے کے تحفے کے طور پر خرید کر دی تھی۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق سارہ کے جسم پر کم از کم 59 مرتبہ شدید ضرب لگنے کے شواہد ملے اور ان کی موت مسلسل شدید تشدد کے نتیجے میں ہوئی۔
استغاثہ نے اسے حالیہ برسوں میں گھریلو تشدد کے انتہائی سنگین مقدمات میں سے ایک قرار دیا۔
منگیتر کے حاملہ ہونے پر جھوٹ سامنے آنے کے بعد تنازع
عدالت کو بتایا گیا کہ جون 2025 میں ہیوز بیلفاسٹ میں اپنی منگیتر کے ساتھ رہ رہا تھا، جو اس وقت حاملہ تھیں۔
استغاثہ کے مطابق ہیوز نے سارہ سے جھوٹ بولا تھا کہ اس کی منگیتر کا حمل ایک کار حادثے کے بعد ضائع ہوگیا ہے۔
جب سارہ کو حقیقت معلوم ہوئی تو انہوں نے ہیوز کو پیغام بھیجا، جس پر اس نے کہا کہ دونوں آمنے سامنے بات کریں گے۔
27 جون کو ہیوز اپنے بچوں میں سے ایک کو لینے سارہ کے فلیٹ پہنچا۔
سی سی ٹی وی میں بچے کو باہر آکر گاڑی میں بیٹھتے دیکھا گیا، جہاں وہ اپنے والد کا انتظار کرتا رہا۔
اسی دوران فلیٹ کے اندر سارہ پر جان لیوا حملہ کیا گیا۔
فون اور چابیاں پھینک دیں، خون آلود کپڑے بھی ٹھکانے لگائے
استغاثہ کے مطابق حملے کے بعد ہیوز نے سارہ کا موبائل فون اپنے ساتھ لیا، فلیٹ کو بند کیا اور دوسرے بچے کو مقامی پرائمری اسکول سے لینے چلا گیا۔
اس کے بعد اس نے مختلف مقامات پر رک کر اپنے کپڑے تبدیل کیے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ اس نے نیو ٹاؤنارڈز کے پرائمارک سے نئے کپڑے خریدے۔
بعد میں سارہ کا موبائل فون اور چابیاں ایک مقام پر جبکہ اپنے خون آلود کپڑے اور حملے میں استعمال ہونے والی پانی کی بوتل دوسری جگہ پھینک دی۔
استغاثہ نے کہا کہ فلیٹ کو بند کرنے اور سارہ کا فون ساتھ لے جانے سے ان تک بروقت مدد پہنچنے کے امکانات مزید کم ہوگئے تھے۔
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ بعد میں ہیوز نے سارہ کے موبائل پر پیغامات بھیجے اور اپنی منگیتر کیلئے منعقد ہونے والی بچے کی آمد سے قبل تقریب میں بھی شریک ہوا۔
دادا نے اگلے روز سارہ کو مردہ پایا
سارہ کے دادا اگلے روز فلیٹ پہنچے جہاں انہوں نے اپنی نواسی کو مردہ حالت میں پایا۔
سارہ 32 ہفتوں کی حاملہ تھیں اور اگست میں ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش متوقع تھی۔ انہوں نے اپنے ہونے والے بیٹے کا نام لیام آرتھر رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔
ہیوز کو اتوار کے روز گرفتار کیا گیا۔ ابتدا میں اس نے واقعے میں ملوث ہونے سے انکار کیا، تاہم بعد میں اپنا بیان تبدیل کرکے جرم کا اعتراف کردیا۔
’خواتین کا قتل ایک حقیقی مسئلہ ہے‘
عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران جسٹس میک برائیڈ نے شمالی آئرلینڈ میں خواتین کے قتل کے واقعات پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کا قتل اس خطے میں ایک حقیقی مسئلہ ہے۔
مقدمے کے دوران 2022 میں لورگن میں حاملہ خاتون نیٹلی میک نیلی کے قتل کے مقدمے کا حوالہ بھی دیا گیا۔
دفاع نے عدالت میں کہا کہ اس انتہائی سنگین واقعے کی شدت کو کم کرنے کیلئے کچھ نہیں کہا جاسکتا، تاہم ہیوز کے جرم قبول کرنے اور اس کے نتیجے میں مقدمہ نسبتاً جلد مکمل ہونے کو سزا کی کم از کم مدت مقرر کرتے وقت مدنظر رکھنے کی درخواست کی گئی۔
عدالت نے ہیوز کو قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا سنادی ہے، جبکہ اسے رہائی کیلئے زیر غور آنے سے پہلے کتنی کم از کم مدت جیل میں گزارنا ہوگی، اس بارے میں فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔
