تکبیر نیوز (کانگو): تنزانیہ سے جمہوریہ کانگو جانے والی مسافر کشتی جھیل ٹانگانیکا میں الٹنے سے کم از کم 41 افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ امدادی ٹیموں نے 49 افراد کو زندہ بچا لیا ہے۔
مقامی حکام کے مطابق کشتی میں تقریباً 100 افراد سوار تھے جبکہ اس پر سامان بھی لدا ہوا تھا۔
صوبہ ٹانگانیکا کے وزیر ٹرانسپورٹ نورس مولونگوئی نے بتایا کہ اب تک 49 افراد کو بچایا جاچکا ہے جبکہ باقی لاپتا مسافروں کی تلاش کیلئے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
تنزانیہ سے کانگو جارہی تھی
حکام کے مطابق کشتی تنزانیہ کے شہر کیگوما سے روانہ ہوئی تھی اور جمہوریہ کانگو کے صوبہ ٹانگانیکا کے شہر کالیمی جارہی تھی۔
کشتی کانگو کے گاؤں ماپیرا کے قریب پہنچنے پر جھیل میں الٹ گئی۔
جمعرات کو پیش آنے والے حادثے کی فوری وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی اور حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
لاپتا مسافروں کی تلاش جاری
کشتی پر تقریباً 100 افراد سوار ہونے کی اطلاعات کے باعث خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ مزید افراد لاپتا ہوسکتے ہیں۔
حکام کے مطابق امدادی ٹیمیں جھیل میں تلاش کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔
کانگو میں کشتی حادثات معمول بن گئے
جمہوریہ کانگو میں کشتیوں کے حادثات ماضی میں بھی بڑی تعداد میں انسانی جانیں لے چکے ہیں۔
ایسے حادثات کیلئے اکثر گنجائش سے زیادہ مسافروں اور سامان، رات کے وقت سفر، حفاظتی انتظامات کی کمی اور لائف جیکٹس کی عدم دستیابی کو اہم عوامل قرار دیا جاتا ہے۔
رواں سال جولائی میں بھی وسطی کانگو میں سرکاری امتحانات کے بعد طلبہ کو واپس لے جانے والی لکڑی کی کشتی ڈوبنے سے کم از کم 20 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
ملک کے دور دراز علاقوں میں سڑکوں اور دیگر بنیادی سفری سہولیات کی کمی کے باعث بڑی تعداد میں لوگ دریاؤں اور جھیلوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ جھیل ٹانگانیکا دنیا کی بڑی میٹھے پانی کی جھیلوں میں شمار ہوتی ہے اور گہرائی کے اعتبار سے روس کی جھیل بائیکال کے بعد دنیا کی دوسری گہری جھیل ہے۔
