تکبیر نیوز (ناٹنگھم): برطانیہ کے شہر ناٹنگھم میں اپنے دوست کو شاٹ گن سے سینے میں گولی مار کر قتل کرنے اور بعد ازاں پولیس کو گمراہ کرنے کیلئے مسلح نقاب پوش شخص کی جھوٹی کہانی سنانے والے 34 سالہ جیک پریسٹن کو عمر قید کی سزا سنادی گئی ہے۔
ناٹنگھم کراؤن کورٹ نے جیک پریسٹن کو عمر قید سناتے ہوئے حکم دیا کہ اسے رہائی کیلئے زیر غور آنے سے قبل کم از کم 28 سال جیل میں گزارنا ہوں گے۔
پریسٹن کو 17 ستمبر 2026 کو کوئل ٹینٹن کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔
دونوں نے شام ایک ساتھ گزاری
عدالت میں پیش کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق 27 فروری 2026 کو پریسٹن اور کوئل ٹینٹن نے مختلف پبز میں ایک ساتھ وقت گزارا تھا، جہاں دونوں کے درمیان موبائل فون خریدنے اور منشیات کے حصول سے متعلق گفتگو بھی ہوئی۔
چند گھنٹے بعد دونوں دوبارہ پریسٹن کے گھر رائی لینڈ گارڈنز، دی میڈوز میں ملے۔
بعد میں دونوں کو ایک اے ٹی ایم سے رقم نکالتے ہوئے بھی کیمرے میں دیکھا گیا، جس کے بعد وہ دوبارہ پریسٹن کے گھر واپس چلے گئے۔
شاٹ گن سے سینے میں گولی ماری
عدالت میں ثابت ہوا کہ پریسٹن نے دو نالی شاٹ گن سے کوئل ٹینٹن کے سینے میں گولی ماری اور بعد میں ہتھیار اپنے باغ میں چھپا دیا۔
28 فروری کی صبح 5 بج کر 32 منٹ پر پریسٹن نے پولیس کو فون کرکے دعویٰ کیا کہ ایک مسلح اور نقاب پوش شخص گھر میں داخل ہوا اور اس کے دوست کو گولی مار دی۔
تاہم پولیس کی تحقیقات میں اس کا بیان درست ثابت نہیں ہوا۔
فائرنگ سے ایک گھنٹہ قبل ہتھیار کے ساتھ ویڈیو
پولیس کو ایک ایسی ویڈیو بھی ملی جو فائرنگ سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل بنائی گئی تھی اور اس میں پریسٹن کو شاٹ گن پکڑے دیکھا جاسکتا تھا۔
اس کے گھر سے کارتوس بھی برآمد ہوئے۔
بعد میں پریسٹن نے اپنا بیان تبدیل کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کوئل ٹینٹن کے ساتھ جھگڑے کے دوران اس نے اپنے دفاع میں گولی چلائی تھی۔
جیوری نے اس کا مؤقف مسترد کرتے ہوئے اسے قتل کا مجرم قرار دے دیا۔
پولیس حراست میں افسر پر بھی حملہ
پریسٹن کو ابتدا میں اقدامِ قتل کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم پولیس حراست کے دوران اس نے ایک پولیس افسر پر بھی حملہ کیا۔
بعد ازاں اس پر قتل، مختصر کی گئی شاٹ گن رکھنے اور ایمرجنسی ورکر پر حملے کے الزامات عائد کیے گئے۔
ناٹنگھم شائر پولیس کی ڈیٹیکٹو انسپکٹر کلیئر گبسن نے کہا کہ پریسٹن کے اقدامات نے کوئل کے اہل خانہ اور دوستوں کو ناقابلِ تصور دکھ اور تکلیف پہنچائی۔
ان کے مطابق پریسٹن نے بار بار اپنا بیان تبدیل کیا، پہلے کسی تیسرے شخص کو ذمہ دار ٹھہرایا اور بعد میں اپنے دفاع کا دعویٰ کیا، تاہم جیوری نے اس کا مؤقف مسترد کردیا۔
عدالت نے جمعرات کو پریسٹن کو عمر قید کی سزا سناتے ہوئے کم از کم 28 سال کی مدت مقرر کردی۔
