تکبیر نیوز (لیڈز): برطانیہ کے شہر لیڈز میں نو انٹری کے نشان کو نظر انداز کرکے ممنوعہ راستے پر گاڑی لے جانے اور پانچ سالہ عبداللہ ابراہیم کی جان لینے والے 32 سالہ ڈرائیور کو 6 سال قید کی سزا سنادی گئی۔
واقعہ 7 جولائی 2022 کو بیسٹن کے علاقے میں بیک کیمبرلی اسٹریٹ پر پیش آیا تھا، جہاں کولن اگیئی کی نسان نوٹ گاڑی پانچ سالہ عبداللہ ابراہیم سے ٹکرا گئی تھی۔
حادثے کے بعد ڈرائیور موقع سے چلا گیا جبکہ شدید زخمی عبداللہ کو ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ جانبر نہ ہوسکا۔
نو انٹری کے باوجود تنگ گلی میں گاڑی لے گیا
لیڈز کراؤن کورٹ کو بتایا گیا کہ ناٹنگلے کے پیئر ٹری گروو کے رہائشی کولن اگیئی نے نو انٹری کا نشان نظر انداز کرتے ہوئے اپنی گاڑی ایک تنگ گلی میں داخل کردی۔
اسی دوران عبداللہ سڑک پار کرتے ہوئے گاڑی کی زد میں آگیا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ حادثے کے وقت گاڑی کی رفتار تقریباً 15 میل فی گھنٹہ تھی۔
ملزم نے لاپرواہی سے ڈرائیونگ کے باعث موت کا سبب بننے کا جرم قبول کیا تھا، تاہم خطرناک ڈرائیونگ کے ذریعے موت کا سبب بننے کے الزام سے انکار کیا۔
جیوری نے تقریباً 40 منٹ غور کے بعد اسے خطرناک ڈرائیونگ سے موت کا سبب بننے کا مجرم قرار دے دیا۔
عدالت نے اسے 6 سال قید کی سزا سنائی۔
’بیٹے کو سڑک پر پڑا دیکھنے کا منظر نہیں بھول سکتی‘
عبداللہ کی والدہ سلمیٰ بیگم نے عدالت میں اپنے بیٹے کی موت کے بعد خاندان پر گزرنے والی تکلیف بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ آج تک یہ نہیں سمجھ سکیں کہ حادثے کے بعد ڈرائیور وہاں سے کیوں چلا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اپنے پانچ سالہ بیٹے کو سڑک پر تنہا پڑا دیکھنے کا منظر ان کے ذہن سے کبھی نہیں نکلا۔
سلمیٰ بیگم کے مطابق خاندان نے انصاف کیلئے تقریباً چار سال انتظار کیا اور عدالتی کارروائی کے دوران بار بار حادثے کی تفصیلات سننا ان کیلئے شدید ذہنی اذیت کا باعث بنا۔
انہوں نے کہا کہ چار سال گزرنے کے باوجود ان کا غم ختم نہیں ہوا اور وہ آج بھی ہر روز اپنے بیٹے کو یاد کرتی ہیں۔
’کوئی سزا خاندان کا نقصان پورا نہیں کرسکتی‘
ویسٹ یارکشائر پولیس کی میجر کولیژن انکوائری ٹیم کے ڈیٹیکٹو سارجنٹ اسٹیو سگٹ نے کہا کہ اس واقعے نے عبداللہ کے خاندان سے زندگی بھر کی مشترکہ یادیں چھین لیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ مجرم کو قید کی سزا سنائی گئی ہے، لیکن کوئی بھی سزا عبداللہ کے خاندان کو پہنچنے والے ناقابلِ تلافی نقصان اور عمر بھر کے غم کا ازالہ نہیں کرسکتی۔
