تکبیر نیوز (نیویارک): اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے تقریر کے موقع پر نیویارک میں ہونے والے احتجاج کے دوران آسکر ایوارڈ یافتہ امریکی اداکارہ سوسن سارینڈن سمیت متعدد افراد کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔
مظاہرہ اقوام متحدہ کے صدر دفتر کے باہر کیا گیا، جہاں شرکا نے اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے امریکا سے اسرائیل کو فوجی امداد اور ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین نے فلسطین کی آزادی، جنگ کے خاتمے اور اسرائیل کو امریکی ہتھیاروں کی فراہمی بند کرنے کے حق میں نعرے لگائے۔
سوسن سارینڈن سمیت اداکار اور سیاسی شخصیات گرفتار
رپورٹس کے مطابق سوسن سارینڈن کے علاوہ اداکارہ ہنّا آئن بائنڈر، نیویارک سٹی کونسل کے رکن چی اوسے اور ڈیموکریٹک کانگریسی امیدوار داریالیزا آویلا شیوالیئر بھی گرفتار ہونے والوں میں شامل تھے۔
مظاہرہ فلسطینیوں کی حمایت کرنے والی یہودی تنظیم جیوش وائس فار پیس کے زیر اہتمام کیا گیا تھا، جس میں تقریباً 200 افراد شریک ہوئے۔
سڑک بند کرنے پر پولیس کی کارروائی
مظاہرین نے اقوام متحدہ کے قریب سڑک پر بیٹھ کر ٹریفک روک دی، جس کے بعد نیویارک پولیس نے انہیں راستہ خالی کرنے کی ہدایت کی۔
پولیس کے مطابق متعدد تنبیہات کے باوجود بعض مظاہرین نے سڑک خالی نہیں کی، جس پر انہیں حراست میں لے لیا گیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کم از کم 30 افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ بعض دیگر رپورٹس میں گرفتار مظاہرین کی تعداد اس سے زیادہ بتائی گئی ہے۔
نیتن یاہو کی تقریر کے دوران وفود کا واک آؤٹ
اسی دوران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نیتن یاہو کی تقریر شروع ہوتے ہی مختلف ممالک کے درجنوں نمائندے ایوان سے باہر نکل گئے۔
نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا دفاع کیا اور اسرائیل پر لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کیا۔
نیویارک میں اس موقع پر فلسطین کے حق میں دیگر مظاہرے بھی ہوئے، جبکہ بعض آرتھوڈوکس یہودی مظاہرین نے بھی نیتن یاہو اور اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا۔
