تکبیر نیوز (نیویارک): ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ تہران جنگ جاری نہیں رکھنا چاہتا اور اب یہ امریکا پر منحصر ہے کہ وہ موجودہ تنازع ختم کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔
فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ایرانی صدر نے کہا کہ ایران مسائل کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کیلئے تیار ہے، تاہم وہ دباؤ اور طاقت کے ذریعے مسلط کی جانے والی شرائط قبول نہیں کرے گا۔
پزشکیان کا کہنا تھا کہ جب مسائل بات چیت کے ذریعے حل کیے جاسکتے ہوں تو ایک دوسرے کو مارنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیلی اقدامات کے نتیجے میں ایران پر جنگ مسلط ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا لیکن اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ اپنا دفاع کرے گا۔
امریکا کے ساتھ معاہدے کیلئے تیار
ایرانی صدر نے کہا کہ اگر موجودہ امریکی حکومت بین الاقوامی قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے معاہدہ کرنا چاہتی ہے تو تہران بات چیت کیلئے تیار ہے۔
پزشکیان کے مطابق ایران کیلئے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ممکنہ معاہدہ امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ہوتا ہے یا بعد میں۔
انہوں نے امریکی پابندیوں اور دباؤ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران مشکلات کے باوجود مزاحمت جاری رکھے گا۔
اقوام متحدہ میں امریکا اور ایران کے درمیان رابطہ
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر بھی امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے ہوئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نیویارک میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے ساتھ بات چیت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعد میں کہا کہ امریکی حکام اور ایرانی وفد کے درمیان تقریباً تین گھنٹے تک بات چیت ہوئی۔
دونوں ممالک کے درمیان جنگ ختم کرنے کی شرائط پر اختلافات برقرار ہیں اور ابھی کسی حتمی معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ایران نے امریکی الزامات مسترد کردیے
پزشکیان نے امریکا کی جانب سے ایران پر دہشت گردی کی حمایت سے متعلق الزامات بھی مسترد کیے۔
ایرانی صدر کا مؤقف تھا کہ ایران نے جنگ شروع نہیں کی بلکہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں اپنی سرزمین اور مفادات کے دفاع کیلئے کارروائیاں کیں۔
امریکی حکومت اس مؤقف سے اختلاف کرتی ہے اور ایران پر خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت اور اپنے جوہری پروگرام سے متعلق سنگین الزامات عائد کرتی رہی ہے۔ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کے امریکی دعووں کی تردید کرتا ہے۔
سعودی عرب نے 6 حوثی میزائل روکنے کا دعویٰ کردیا
دوسری جانب یمن میں جاری لڑائی کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
سعودی قیادت والے اتحاد نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ سعودی فضائی دفاع نے حوثیوں کی جانب سے طائف اور ینبع کی سمت داغے گئے 6 بیلسٹک میزائل تباہ کردیے۔
حوثیوں نے بھی سعودی عرب میں ایک حساس مقام کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ اور یمن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خلیج اور بحیرہ احمر کے اہم تجارتی راستوں کی صورتحال بھی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
