تکبیر نیوز (پریسٹن): پریسٹن میں اپنی 19 سالہ سوتیلی بیٹی کارلا جارجیسکو کے قتل کے مقدمے میں 34 سالہ نیتھن اوونز کو قتل اور سنگین جسمانی نقصان پہنچانے کے جرم میں قصوروار قرار دے دیا گیا ہے۔
کارلا جارجیسکو یونیورسٹی آف لنکاشائر میں زیرِ تعلیم تھیں اور اپنی 20ویں سالگرہ سے ایک دن قبل یونیورسٹی کی رہائش گاہ میں قتل کر دی گئی تھیں۔
پریسٹن کراؤن کورٹ میں تین ہفتے جاری رہنے والے مقدمے کے بعد جیوری نے تقریباً تین گھنٹے غور کے بعد متفقہ فیصلہ سنایا۔
کمرے میں مردہ پائی گئیں
کارلا کو 4 فروری 2026 کو ان کے کمرے میں مردہ پایا گیا تھا، جب ان کی والدہ نے تشویش کے بعد حکام سے رابطہ کیا۔
ابتدائی طور پر تفتیش کاروں کو شبہ تھا کہ شاید کارلا نے خودکشی کی ہو، تاہم تحقیقات میں بعد میں سامنے آیا کہ انہیں شدید جنسی اور جسمانی حملے کا نشانہ بنایا گیا اور پھر جائے وقوعہ کو خودکشی کا منظر دینے کی کوشش کی گئی۔
استغاثہ: سوتیلی بیٹی کے ساتھ جنسی جنون
استغاثہ کے مطابق نیتھن اوونز اپنی سوتیلی بیٹی کے بارے میں جنسی جنون رکھتا تھا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ وہ ہارٹل پول میں اپنے گھر سے 100 میل سے زائد فاصلہ طے کرکے پریسٹن پہنچا تھا۔
استغاثہ کا کہنا تھا کہ کارلا کے رومانیہ جا کر اپنے آن لائن دوست سے پہلی مرتبہ ملنے کے منصوبے نے اوونز میں حسد کو مزید بڑھایا۔
سی سی ٹی وی میں چہرہ چھپاتے دیکھا گیا
عدالت میں دکھائی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج میں اوونز کو قتل کی صبح کارلا کی رہائش گاہ کے باہر پہنچتے اور سر پر کمبل ڈال کر اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کرتے دیکھا گیا۔
اس نے کارلا کو پیغام بھیجا تھا کہ وہ اس کی والدہ کا بھولا ہوا پرس لینے آیا ہے۔
استغاثہ کے مطابق یہ محض بہانہ تھا۔
کارلا نے اسے اسی یقین پر کمرے میں داخل ہونے دیا، جس کے بعد اس نے اس پر تشدد اور جنسی حملہ کیا اور اسے قتل کر دیا۔
قتل کے بعد شواہد مٹانے کی کوشش
عدالت کو بتایا گیا کہ اوونز نے واقعے کے بعد جائے وقوعہ کو خودکشی جیسا دکھانے کی کوشش کی اور پھر واپس ہارٹل پول چلا گیا۔
راستے میں اس نے بعض شواہد تلف کرنے کی بھی کوشش کی۔
کارلا کی والدہ کو اس وقت تک علم نہیں تھا کہ وہ پریسٹن گیا تھا۔
اوونز نے بعد میں دعویٰ کیا کہ کارلا نے اسے کمرے کی صفائی اور کچھ سامان لانے کے لیے بلایا تھا۔
ڈیجیٹل شواہد سے اہم انکشافات
پولیس کی ڈیجیٹل تحقیقات میں ایسے مواد کا انکشاف ہوا جس سے اوونز کی اپنی سوتیلی بیٹی کے ساتھ غیر معمولی اور جنسی نوعیت کی دلچسپی سامنے آئی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ اس نے کارلا کی بچپن کی تصاویر میں ردوبدل کرکے نامناسب تصاویر تیار کیں اور خفیہ طور پر اس کے کمرے میں تصاویر اور ویڈیوز بھی بنائیں۔
اوونز نے قتل کے الزام سے انکار کیا تھا، تاہم اس نے اپنے دفاع میں نہ خود گواہی دی اور نہ کوئی دوسرا ثبوت پیش کیا۔
پولیس: کارلا نے ایسے شخص پر بھروسا کیا جسے کرنا چاہیے تھا
لنکاشائر پولیس کے میجر انویسٹی گیشن ٹیم کے ڈیٹیکٹو انسپکٹر پیٹ میکڈونلڈ نے کہا کہ کارلا ایک نوجوان خاتون تھیں جن کی پوری زندگی سامنے تھی، لیکن ان کی جان ایسے شخص نے لے لی جس پر انہیں اعتماد ہونا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ اوونز کا جنسی جنون انتہائی قابلِ مذمت تھا اور اب اسے اپنے جرائم کا جواب دینا ہوگا۔
یونیورسٹی کا خراجِ عقیدت
یونیورسٹی آف لنکاشائر کے ترجمان نے کارلا کو یونیورسٹی برادری کی ایک قابلِ قدر رکن قرار دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ وہ کلینیکل سائیکالوجی کے دوسرے سال کی طالبہ تھیں اور اپنی گرم جوشی، جوش اور مہربانی کے لیے جانی جاتی تھیں۔
یونیورسٹی نے کہا کہ کارلا کی موت کا پوری یونیورسٹی پر گہرا اثر پڑا ہے اور ان کی یاد ہمیشہ احترام سے رکھی جائے گی۔
