تکبیر نیوز (ورسٹر): یونان کے جزیرے زاکنتھوس، جسے زینٹے بھی کہا جاتا ہے، میں 66 سالہ برطانوی خاتون جیکولین کاسٹن کی موت کی تحقیقات کے سلسلے میں 69 سالہ شخص کو ورسٹر میں قتل کے شبے میں دوبارہ گرفتار کیا گیا، تاہم بعد میں اسے مزید تحقیقات تک ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
ساؤتھ یارکشائر پولیس کے مطابق جیکولین کاسٹن، جو باوٹری، ساؤتھ یارکشائر سے تعلق رکھتی تھیں، 14 مئی کو زینٹے میں واقع اپنے ولا میں بے ہوش حالت میں ملی تھیں۔
انہیں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں بعد میں انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔
مشتبہ شخص دوسری بار گرفتار
پولیس کے مطابق 69 سالہ شخص کو پہلی مرتبہ 12 جون کو قتل کے شبے میں گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔
تازہ پیش رفت میں اسے 17 اکتوبر کو ورسٹر میں دوبارہ قتل کے شبے میں گرفتار کیا گیا۔
پوچھ گچھ کے بعد اسے ایک مرتبہ پھر مزید تحقیقات تک پولیس ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
اس شخص کی شناخت پولیس نے ظاہر نہیں کی اور اس پر ابھی قتل کا باقاعدہ الزام عائد نہیں کیا گیا۔
تحقیقات کو پیچیدہ قرار دیا گیا
جیکولین کاسٹن کی موت سے متعلق ابتدائی انکوائری میں موت کی وجہ کا حتمی تعین نہیں کیا گیا۔
کیس سے منسلک ایک پولیس افسر کے مطابق تحقیقات کی نوعیت پیچیدہ ہے کیونکہ یونانی حکام کی جانب سے حاصل کیا گیا بعض تحقیقاتی مواد ابھی یونان میں موجود ہے۔
برطانیہ اور یونان میں موجود شواہد اور معلومات کو یکجا کرنے کے باعث تفتیش میں مزید وقت لگ رہا ہے۔
تحقیقات بدستور جاری
ساؤتھ یارکشائر پولیس نے تصدیق کی ہے کہ 69 سالہ شخص کو قتل کے شبے میں دوبارہ گرفتار کرنے کے بعد ضمانت پر چھوڑا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس نے ابھی یہ نہیں بتایا کہ جیکولین کاسٹن کی موت کن حالات میں ہوئی یا آیا مشتبہ شخص کے خلاف مستقبل میں کوئی باقاعدہ الزام عائد کیا جائے گا۔
