برمنگھم: برطانیہ کے دوسرے بڑے شہر برمنگھم کی اے درجے کے علاوہ مقامی سڑکوں پر رفتار کی حد 20 میل فی گھنٹہ مقرر کرنے کی تجویز سامنے آگئی، مغربی مڈلینڈز کے سڑکوں کی حفاظت کے کمشنر نے اس اقدام کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے اسے انسانی جانیں بچانے والا قرار دیا ہے۔
مغربی مڈلینڈز کے سڑکوں کی حفاظت کے کمشنر میٹ میک ڈونلڈ کا کہنا ہے کہ برمنگھم شہر کی حدود میں بی، سی اور غیر درجہ بند سڑکوں پر رفتار کی حد 20 میل فی گھنٹہ مقرر کرنا حادثات میں ہونے والی اموات اور شدید زخمی ہونے کے واقعات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
برمنگھم سٹی کونسل اس منصوبے پر کئی برس سے غور کر رہی ہے۔ کونسل نے جولائی 2024 میں شہر میں سڑکوں کی حفاظت سے متعلق ہنگامی صورتحال کا اعلان بھی کیا تھا، تاہم رفتار کی نئی حد نافذ کرنے سے پہلے عوامی مشاورت کا مرحلہ مکمل کرنا ہوگا۔
میٹ میک ڈونلڈ نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 20 میل فی گھنٹہ رفتار کی حد ایسے المناک واقعات کو روکنے میں مدد دے سکتی ہے جن میں کم عمر بچے سڑک حادثات کا شکار ہوتے ہیں۔
انہوں نے 2014 میں لیورپول کے علاقے ویسٹ ڈربی میں چھ سالہ بوبی کولیرن کی موت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسے ٹکر مارنے والی گاڑی 30 کے بجائے 20 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہوتی تو امکانات کے اعتبار سے بچہ آج زندہ ہوتا۔
سڑکوں کی حفاظت کے کمشنر نے کہا کہ 20 میل فی گھنٹہ کی رفتار کی حد ایک ایسے اقدام کے طور پر سامنے آئی ہے جس کے حق میں ٹھوس شواہد موجود ہیں اور جو انسانی جانیں بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ برمنگھم سٹی کونسل کی جانب سے اس سمت میں پیش رفت پر حوصلہ افزائی محسوس کر رہے ہیں۔
انہوں نے یہ دعویٰ بھی مسترد کیا کہ رفتار کی حد کم کرنے سے شہر میں ٹریفک کا دباؤ مزید بڑھ جائے گا۔ ان کے مطابق اگر کوئی شخص اس اقدام کی مخالفت کرتا ہے تو اسے ایسے فوائد اور وجوہات پیش کرنا ہوں گی جو ان انسانی جانوں کی قدر سے زیادہ اہم ثابت ہوں جو اس اقدام کے نتیجے میں بچائی جاسکتی ہیں۔
میک ڈونلڈ نے ویلز میں 20 میل فی گھنٹہ رفتار کی حد کے نفاذ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پہلے سال متعلقہ سڑکوں پر ہلاک یا شدید زخمی ہونے والے افراد کی تعداد میں تقریباً 100 کی کمی دیکھی گئی۔
برمنگھم سٹی کونسل نے حال ہی میں شہر کے مستقبل سے متعلق اپنے مقامی منصوبے میں بھی 20 میل فی گھنٹہ رفتار کی حد کے مؤقف کی دوبارہ توثیق کی ہے۔ کونسل کے مطابق مقامی سڑکوں سے مراد بی اور سی درجے کی سڑکیں اور غیر درجہ بند راستے ہوں گے، جبکہ اے درجے کی سڑکیں اس منصوبے میں شامل نہیں ہوں گی کیونکہ یہ خطے کے اہم اور زیادہ مصروف راستوں میں شمار ہوتی ہیں۔
کونسل کا کہنا ہے کہ مقامی سڑکوں پر 20 میل فی گھنٹہ کی رفتار کی حد برمنگھم کے ٹرانسپورٹ منصوبے کے تحت مرحلہ وار نافذ کی جاتی رہے گی۔
کونسل کے حکام کے مطابق شہر میں پیدل چلنے اور سائیکل چلانے جیسے ذرائع کو بھی فروغ دینے کا منصوبہ ہے تاکہ مقامی علاقوں میں زیادہ سے زیادہ افراد روزمرہ سفر کے لیے فعال سفری ذرائع استعمال کریں۔
برمنگھم میں لبرل ڈیموکریٹس کے گروپ نے بھی آئندہ بلدیاتی انتخابات سے قبل اپنے منشور میں رفتار کم کرنے کو ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ گرین پارٹی سے تعلق رکھنے والے کونسل کے نائب سربراہ جولین پرچرڈ نے بھی اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی رفتار کی حد پر مؤثر عمل درآمد کے لیے نگرانی اور کارروائی ضروری ہوگی۔
