تکبیر نیوز (برمنگھم): برمنگھم میں ڈرائیورز کے لیے اہم تبدیلی، شہر کی متعدد مصروف سڑکوں پر رفتار کی حد 40 سے کم کرکے 30 میل فی گھنٹہ کردی گئی، نئی حد نظر انداز کرنے والے موٹرسائیکل سواروں اور ڈرائیورز کو جرمانوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
برمنگھم سٹی کونسل کی جانب سے رفتار کی حد میں کمی کا مقصد سڑکوں پر حادثات میں کمی اور شہریوں کی حفاظت بہتر بنانا بتایا گیا ہے۔ شہر میں روزانہ کام، خریداری اور بچوں کو اسکول لے جانے والے ڈرائیورز کو بھی نئی رفتار حدود کے مطابق اپنی ڈرائیونگ میں تبدیلی کرنا ہوگی۔
نئی 30 میل فی گھنٹہ کی رفتار کی حد شہر کی کئی اہم شاہراہوں پر نافذ کی گئی ہے، جن میں اے 34 والسال روڈ، اے 38 برسٹل روڈ ساؤتھ اور اے 456 ہیگلی روڈ ویسٹ کے مختلف حصے بھی شامل ہیں۔
رفتار کی حد میں تبدیلی کے باعث ایسی سڑکوں پر بھی اب ڈرائیورز کو محتاط رہنا ہوگا جہاں وہ طویل عرصے سے 40 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے کے عادی تھے۔
برمنگھم میں نئی رفتار حدود کے ساتھ ساتھ نئے رفتار کیمروں کی تنصیب بھی جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں پولیس کی رفتار چیک کرنے والی کیمرہ وینز کو نئی 30 میل فی گھنٹہ کی حد والی بعض سڑکوں پر بھی دیکھا گیا ہے۔
حکام نے ڈرائیورز کو خبردار کیا ہے کہ رفتار کی نئی حد کو نظر انداز کرنا انہیں کارروائی اور جرمانے کے خطرے سے دوچار کرسکتا ہے۔ پولیس بعض حالات میں معمولی حد سے تجاوز کرنے والے ڈرائیورز کے ساتھ رعایت برت سکتی ہے، تاہم اس کی کوئی ضمانت نہیں۔
برمنگھم سٹی کونسل کے سابق روڈز انچارج کونسلر مجید محمود نے اس سے قبل کہا تھا کہ سڑکوں کی حفاظت کو ہنگامی مسئلہ قرار دینے کے بعد کیے گئے وعدے کے مطابق عملی اقدامات کیے جارہے ہیں۔
انہوں نے شہریوں کے لیے واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ رفتار کم رکھنا زیادہ محفوظ ہے، رفتار کی حدود پر عمل کریں اور جانیں بچائیں۔
برمنگھم میں رفتار کی حد میں یہ تبدیلی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب شہر میں سڑکوں پر حادثات اور ٹریفک کی حفاظت کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات جاری ہیں۔ ڈرائیورز کو مشورہ دیا گیا ہے کہ سفر سے پہلے سڑک پر موجود رفتار کی حد کے نئے نشانات ضرور دیکھیں اور اپنی رفتار اسی کے مطابق رکھیں۔
