ایتھنز: یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں سوٹ کیس سے مردہ حالت میں ملنے والی 38 سالہ اسکاٹش امدادی کارکن Elisabeth-Jane Ross کی موت کی اصل وجہ جاننے کے لیے کیے جانے والے ٹیسٹ کی رپورٹ مزید ایک ماہ تک مؤخر ہونے کا امکان ہے۔
الیزبتھ جین راس، جنہیں لیزا کے نام سے جانا جاتا تھا، کی لاش 18 جولائی کو ایتھنز کے علاقے Kypseli میں ایک خستہ حال عمارت سے ایک بے گھر شخص نے دریافت کی تھی۔
لیزا 26 جون کو ایڈنبرا سے یونان پہنچی تھیں۔ ابتدائی طبی معائنے میں موت کی وجہ واضح نہیں ہوسکی تھی، تاہم بعد ازاں پوسٹ مارٹم اور مزید تحقیقات کے بعد دم گھٹنے کو موت کی ممکنہ وجہ قرار دیا گیا۔
یونانی پولیس کا کہنا ہے کہ موت کی حتمی وجہ جاننے کے لیے مزید ٹیسٹ جاری ہیں۔ پولیس ترجمان کے مطابق ان ٹیسٹوں کے نتائج آنے میں کم از کم مزید ایک ماہ لگ سکتا ہے۔
اس کیس میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ Sharif Ahmadzai پر قتل، غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور ڈکیتی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ وہ ایتھنز کی عدالت میں پیش ہوچکا ہے اور پولیس کی تحویل میں ہے۔
احمدزئی قتل کے الزام سے انکار کرتا ہے اور مبینہ طور پر دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے لیزا کو پہلے ہی مردہ حالت میں باتھ روم کے فرش پر پایا تھا۔
پولیس نے قریبی نگرانی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لینے کے بعد مشتبہ شخص کو حراست میں لیا تھا۔ کیس کی تحقیقات کے دوران لیزا کے فون سے مبینہ طور پر پیغامات بھی بھیجے گئے تھے۔
لیزا کے اہل خانہ نے ان کی موت پر انہیں مہربان، اصول پسند اور دوسروں کی مدد کے لیے زندگی وقف کرنے والی شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس نقصان پر شدید صدمے میں ہیں۔
ادھر پولیس اسکاٹ لینڈ اور برطانوی حکام یونانی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور لیزا کے خاندان کو قونصلر معاونت فراہم کی جارہی ہے۔
تحقیقات جاری ہیں جبکہ موت کی حتمی وجہ سامنے آنے کے لیے فرانزک ٹیسٹ کے نتائج کا انتظار کیا جارہا ہے
