تکبیر نیوز (لندن): برطانوی حکومت نے قومی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران کی اسلامی پاسدارانِ انقلاب (Islamic Revolutionary Guard Corps – IRGC) کی حمایت کو برطانیہ میں غیر قانونی قرار دیا جائے گا۔
حکومت کے مطابق یہ اقدام نئے State Threats Powers کے تحت کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ان تنظیموں اور گروہوں کے خلاف کارروائی کرنا ہے جو غیر ملکی ریاستوں کے مفادات کے لیے برطانیہ میں سرگرم ہوں یا مقامی آبادی کو خوفزدہ کرنے اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں۔
نئی قانونی طاقتیں کیا ہیں؟
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ اگر پارلیمنٹ سے منظوری مل گئی تو یہ اختیارات پولیس، سکیورٹی اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ایسے گروہوں کے خلاف مزید مؤثر کارروائی کا اختیار دیں گے جو بیرونی ریاستوں کی جانب سے کام کرتے ہیں یا ان کے مفادات کو فروغ دیتے ہیں۔
ان قوانین کا مقصد ایسے نیٹ ورکس کی بھرتی، سرگرمیوں اور برطانیہ میں اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے۔
کن تنظیموں کو بھی شامل کیا جا رہا ہے؟
حکومت نے بتایا ہے کہ Islamic Movement of Companions of the Right (IMCR) اور روس سے منسلک GRU Volunteer Corps بھی ان تنظیموں میں شامل ہوں گی جنہیں پہلی مرتبہ ان نئے اختیارات کے تحت نامزد کیا جائے گا۔
حکومت نے IRGC پر کیا مؤقف اختیار کیا؟
برطانوی حکومت کے مطابق IRGC ایران کی بیرون ملک سرگرمیوں میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے اور اس پر الزام ہے کہ وہ مختلف پراکسی گروہوں اور مجرمانہ نیٹ ورکس کے ذریعے بیرون ملک کارروائیاں کرتی رہی ہے۔
سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان سرگرمیوں کا ہدف مختلف ممالک میں ایرانی مخالفین، صحافیوں اور بعض دیگر کمیونٹیز بھی رہی ہیں۔
خلاف ورزی پر کیا سزا ہوگی؟
حکومت کے مطابق نئے قوانین کے تحت:
- نامزد تنظیموں کی حمایت یا ان سے وابستہ بعض جرائم پر 14 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
- جبکہ ان تنظیموں کی جانب سے تخریبی کارروائیوں (Sabotage) میں ملوث افراد کو عمر قید تک کی سزا دی جا سکے گی۔
آگے کیا ہوگا؟
یہ قانون پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد نافذ العمل ہوگا۔ منظوری کی صورت میں برطانیہ کی سکیورٹی ایجنسیاں ان اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ریاستی خطرات سے نمٹنے کے لیے مزید سخت اقدامات کر سکیں گی۔
