بنکاک (تکبیر نیوز) تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں ایک معروف میوزک بار میں ہونے والی خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 32 ہوگئی ہے، جبکہ 15 زخمی اب بھی انتہائی نگہداشت کے یونٹس میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
بنکاک کے رونگ بیئر نا لادپراؤ بار میں اتوار کے روز اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے میوزک بار کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ واقعے کو بنکاک میں گزشتہ 17 سال کے دوران پیش آنے والا بدترین آتشزدگی کا سانحہ قرار دیا جا رہا ہے۔
تھائی دارالحکومت کے ایراوان ایمرجنسی سروسز سینٹر کے مطابق واقعے میں 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 30 اب بھی مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جبکہ 15 افراد کو انتہائی نگہداشت کے یونٹس میں رکھا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق آگ میں جان گنوانے والے بیشتر افراد کی لاشیں ایسے باتھ رومز سے ملی ہیں جہاں کھڑکیاں موجود نہیں تھیں۔ ابتدائی تحقیقات میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ متاثرین نے آگ اور دھویں سے بچنے کے لیے باتھ رومز میں پناہ لینے کی کوشش کی، تاہم وہاں پھنس گئے۔
بار انتظامیہ کے مطابق عمارت میں تقریباً 600 افراد کی گنجائش تھی، تاہم حادثے کے وقت وہاں کتنے افراد موجود تھے، اس حوالے سے حتمی تعداد سامنے نہیں آ سکی۔
حکام نے آگ لگنے کی اصل وجہ اور بار میں حفاظتی ضوابط پر عملدرآمد کے حوالے سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
بنکاک کے گورنر چڈچارٹ ستی پنت نے شہر بھر میں ایسے بارز، میوزک ہالز اور تفریحی مقامات کا وسیع پیمانے پر حفاظتی سروے کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
گورنر کے مطابق موجودہ قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے اور تفریحی مراکز میں آگ سے تحفظ کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین اور زندہ بچ جانے والے افراد نے جائے وقوعہ کے قریب پولیس اسٹیشن کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے اپنے بیانات ریکارڈ کرائے، ذاتی سامان حاصل کیا اور معاوضے سے متعلق معلومات طلب کیں۔
جائے حادثہ پر بڑی تعداد میں شہریوں نے سفید پھول رکھ کر متاثرین کو خراج عقیدت پیش کیا ہے، جبکہ تھائی، کوریائی اور دیگر زبانوں میں تحریر کیے گئے تعزیتی پیغامات بھی رکھے گئے ہیں۔
آتشزدگی کے بعد بار کے اندر تباہی کے مناظر سامنے آئے ہیں، جہاں پگھلے ہوئے موسیقی کے آلات، جلی ہوئی کرسیاں اور دیگر ملبہ موجود ہے۔
بار انتظامیہ نے اپنے بیان میں سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے معذرت کی اور تحقیقات میں پولیس اور سرکاری اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
انتظامیہ کے مطابق متاثرین اور ان کے خاندانوں کی مدد کے لیے ایک خصوصی رابطہ مرکز بھی قائم کیا گیا ہے۔
بار کے مالک بھی آتشزدگی میں شدید زخمی ہوئے ہیں اور اس وقت انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیر علاج ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا میوزک بار میں آگ سے تحفظ اور ہنگامی اخراج سے متعلق تمام قانونی ضوابط پر عمل کیا جا رہا تھا یا نہیں۔
