ڈربی (تکبیر نیوز) ڈربی کے ایک اسکول میں دو طلبہ کے درمیان چاقو کے استعمال سے مبینہ حملے کے واقعے کے بعد 15 سالہ لڑکے کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ ایک طالب علم کی ٹانگ پر معمولی زخم آیا ہے۔
ڈربی شائر پولیس کے مطابق واقعہ منگل 14 جولائی کو دوپہر 2 بج کر 40 منٹ سے کچھ دیر قبل ڈفیلڈ روڈ، ڈارلی ایبی میں واقع سینٹ بینیڈکٹ کیتھولک وولنٹری اکیڈمی میں پیش آیا۔
پولیس کو اسکول میں دو طلبہ کے درمیان چاقو کے استعمال سے حملے کی اطلاعات پر طلب کیا گیا تھا۔
حکام کے مطابق واقعے میں ایک طالب علم کی ٹانگ پر معمولی زخم آیا، تاہم اس کی حالت ایسی نہیں تھی کہ اسے اسپتال منتقل کرنے کی ضرورت پیش آتی۔
پولیس نے واقعے کے بعد ایک 15 سالہ لڑکے کو حملے اور جارحانہ ہتھیار رکھنے کے شبے میں گرفتار کر لیا۔
ڈربی شائر پولیس کے مطابق گرفتار لڑکے کو بعد ازاں ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ اسے ڈفیلڈ روڈ پر واقع اسکول میں دو طلبہ کے درمیان چاقو کے استعمال سے مبینہ حملے کی اطلاع ملی تھی۔
واقعے کے دوران اسکول میں لاک ڈاؤن نافذ نہیں کیا گیا کیونکہ صورتحال اسکول کے ایک مخصوص حصے تک محدود تھی اور عملے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے قابو کر لیا۔
سینٹ بینیڈکٹ کیتھولک وولنٹری اکیڈمی کے قائم مقام سربراہ اسٹیو بروگن نے کہا کہ پولیس گزشتہ روز دو طلبہ کے درمیان پیش آنے والے واقعے کے بعد اسکول پہنچی تھی۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال کو اسکول کی پالیسی اور طے شدہ طریقہ کار کے مطابق فوری طور پر نمٹا دیا گیا۔
اسٹیو بروگن کا کہنا تھا کہ اسکول اس نوعیت کے واقعات کو انتہائی سنجیدگی سے لیتا ہے اور طلبہ اور عملے کی حفاظت اور فلاح ہمیشہ انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔
پولیس کی جانب سے واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
