تکبیر نیوز (لندن): عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جانے کی تیاری کرنے والے برطانوی مسلمانوں کو سفری بے یقینی کا سامنا ہے، کم لاگت فضائی کمپنی ویز ایئر کی لندن گیٹ وِک سے جدہ اور مدینہ جانے والی بعض پروازیں شیڈول سے غائب یا معطل ہونے کے بعد مسافر متبادل ٹکٹوں اور رقم کی واپسی کے لیے پریشان ہیں۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق موسمِ گرما کے آخری حصے اور ستمبر کے لیے سعودی عرب جانے والے بعض روٹس پر ویز ایئر کی دستیابی متاثر ہوئی ہے۔ مدینہ کی پروازیں بھی وسیع تر مشرق وسطیٰ فضائی تعطل کے دوران شیڈول سے باہر رہنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ جون میں شائع ہونے والی ایک فضائی سفری رپورٹ میں بھی ویز ایئر کی مدینہ سروس کو آئندہ اطلاع تک شیڈول سے باہر بتایا گیا تھا۔
یہ صورت حال ایسے وقت سامنے آئی ہے جب برطانیہ سے بڑی تعداد میں مسلمان خاندان عمرہ کے لیے پروازیں، ہوٹل اور سعودی عرب کے اندر سفر کے انتظامات کئی ماہ پہلے مکمل کر چکے ہوتے ہیں۔ براہ راست یا کم قیمت پرواز کی منسوخی صرف ایک ٹکٹ کا مسئلہ نہیں رہتی بلکہ پورا سفری منصوبہ متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
عمرہ زائرین کے لیے اچانک سفری مشکل
لندن سے جدہ اور مدینہ کی کم لاگت پروازوں نے ان مسافروں کو ایک نسبتاً سستا راستہ فراہم کیا تھا جو روایتی فضائی کمپنیوں کے مہنگے ٹکٹ برداشت نہیں کر سکتے۔ گیٹ وِک سے مدینہ کی براہ راست ویز ایئر سروس اگست 2025 میں شروع ہوئی تھی اور اسے دونوں شہروں کے درمیان واحد براہ راست فضائی رابطے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
اب پروازوں کے شیڈول میں تعطل نے خاص طور پر ان زائرین کے لیے مشکل پیدا کر دی ہے جن کے ہوٹل، زمینی ٹرانسپورٹ یا عمرہ کے دیگر انتظامات پہلے سے طے ہیں۔
اصل فراہم کردہ معلومات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر سینکڑوں برطانوی مسلمان متاثر ہوئے ہیں، تاہم تکبیر نیوز کو دستیاب سرکاری اعداد و شمار میں متاثرہ عمرہ زائرین کی حتمی تعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
مشرق وسطیٰ کا فضائی بحران بھی اہم وجہ
ویز ایئر کا معاملہ خطے میں جاری بڑے فضائی بحران سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔ ایران اور اسرائیل سے جڑی علاقائی کشیدگی، فضائی حدود کی بندش اور حفاظتی خدشات کے باعث 2026 میں متعدد بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے مشرق وسطیٰ کے مختلف روٹس معطل یا محدود کیے ہیں۔
حالیہ بین الاقوامی فضائی جائزوں کے مطابق کئی بڑی فضائی کمپنیوں نے دبئی، تل ابیب، بغداد، بیروت اور دیگر شہروں کے لیے پروازوں میں تبدیلیاں کیں، جبکہ ویز ایئر نے بھی مختلف مشرق وسطیٰ روٹس پر معطلی کا دورانیہ بڑھایا۔
مارچ 2026 میں ویز ایئر نے علاقائی سلامتی کی صورت حال اور بند فضائی حدود کے باعث سعودی عرب سمیت بعض مقامات کے لیے عارضی پروازیں روکنے کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت کمپنی نے برطانیہ سے جدہ اور مدینہ کی سروسز کے طے شدہ پروگرام کے مطابق بحال ہونے کی بات بھی کی تھی، لیکن بعد کے شیڈول میں آنے والی تبدیلیوں نے مسافروں کے لیے نئی غیر یقینی پیدا کر دی۔
رقم کی واپسی میں تاخیر کی شکایات
متاثرہ مسافروں کے لیے دوسرا بڑا مسئلہ رقم کی واپسی ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق بعض مسافروں نے فضائی کمپنی یا تیسرے فریق کی بکنگ ویب سائٹس سے بروقت اطلاع نہ ملنے کی شکایت کی ہے۔
کچھ مسافروں کا کہنا ہے کہ بکنگ ایجنٹوں کے ذریعے رقم واپس لینے کا عمل کئی ہفتوں تک طویل ہو سکتا ہے۔ تاہم کسی مخصوص بکنگ کمپنی کی جانب سے تمام صارفین کے لیے آٹھ ہفتوں کی یکساں مدت یا لازمی فیس کٹوتی کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی، اس لیے ہر مسافر کو اپنی بکنگ کی شرائط اور متعلقہ کمپنی سے تحریری جواب حاصل کرنا چاہیے۔
یہ مسئلہ خاص طور پر ان خاندانوں کے لیے سنگین ہے جنہیں منسوخ شدہ پرواز کی رقم واپس ملنے سے پہلے نئی اور ممکنہ طور پر زیادہ مہنگی پرواز خریدنا پڑ رہی ہے۔
برطانوی قانون کے تحت مسافروں کے حقوق کیا ہیں؟
برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق اگر UK261 کے تحت آنے والی پرواز منسوخ ہو جائے تو فضائی کمپنی کو مسافر کو رقم کی واپسی یا متبادل راستے سے منزل تک پہنچانے کے انتخاب سے متعلق حقوق فراہم کرنا ہوتے ہیں۔
یہاں ایک اہم قانونی احتیاط ضروری ہے۔ مسافروں کو یہ تصور نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ہر صورت اپنی مرضی سے کسی دوسری فضائی کمپنی کا مہنگا ٹکٹ خرید کر مکمل رقم خودکار طور پر واپس حاصل کر سکتے ہیں۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی کی رہنمائی کے مطابق پہلے اپنی فضائی کمپنی سے متبادل پرواز یا دوبارہ سفر کے انتظام کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ اگر کمپنی مناسب متبادل فراہم کرنے میں ناکام رہے تو مسافر اپنے اگلے اقدامات، اخراجات اور ممکنہ دعوے کا مکمل ریکارڈ محفوظ رکھیں۔
علاقائی جنگ، سیاسی عدم استحکام یا فضائی حدود کی بندش جیسے غیر معمولی حالات میں مقررہ مالی معاوضہ ہر کیس میں قابل ادائیگی نہیں ہوتا۔ برطانوی حکومتی رہنمائی کے مطابق سیاسی عدم استحکام جیسے فضائی کمپنی کے اختیار سے باہر حالات میں مقررہ معاوضہ نہ ملنے کا امکان ہوتا ہے، اگرچہ منسوخی کی صورت میں رقم کی واپسی یا متبادل سفر سے متعلق بنیادی حقوق الگ معاملہ ہیں۔
کریڈٹ کارڈ چارج بیک سے پہلے احتیاط ضروری
بعض مسافر رقم کی واپسی میں تاخیر کے باعث اپنے بینک یا کریڈٹ کارڈ فراہم کنندہ سے چارج بیک کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔ تاہم یہ طریقہ ہر معاملے میں فوری یا یقینی کامیابی کی ضمانت نہیں۔
مسافروں کو منسوخی کی اطلاع، بکنگ تصدیق، فضائی کمپنی اور ایجنٹ سے رابطے، رقم واپسی کی درخواست اور تمام رسیدیں محفوظ رکھنی چاہئیں۔
اگر بکنگ کسی تیسرے فریق کے ذریعے کی گئی ہو تو یہ بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ ٹکٹ جاری کرنے اور رقم وصول کرنے والا ادارہ کون تھا، کیونکہ شکایت یا رقم واپسی کا طریقہ براہ راست فضائی کمپنی سے بکنگ کے مقابلے میں مختلف ہو سکتا ہے۔
کم قیمت سفر کی اصل قیمت؟
ویز ایئر کی سعودی پروازوں میں تعطل نے ایک بار پھر کم لاگت طویل فاصلے کی پروازوں سے جڑے خطرات پر بحث شروع کر دی ہے۔
سستا ٹکٹ بلاشبہ بہت سے خاندانوں کے لیے عمرہ کا سفر ممکن بناتا ہے، لیکن جب محدود متبادل پروازوں والا روٹ اچانک معطل ہو جائے تو مسافر کو آخری وقت میں کئی گنا مہنگا ٹکٹ خریدنے، ہوٹل کی تاریخیں تبدیل کرنے اور پورا سفری منصوبہ دوبارہ ترتیب دینے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
عمرہ عام تفریحی سفر سے مختلف ہے۔ زائرین اکثر مکہ اور مدینہ کے ہوٹل، چھٹیاں اور خاندان کے متعدد افراد کا سفر ایک ساتھ طے کرتے ہیں۔ ایک پرواز کی منسوخی پورے خاندان کے مذہبی سفر کو متاثر کر سکتی ہے۔
متاثرہ زائرین اب کیا کریں؟
پرواز منسوخ ہونے کی صورت میں مسافروں کو سب سے پہلے اپنی بکنگ براہ راست ویز ایئر یا متعلقہ بکنگ ایجنٹ کے ذریعے چیک کرنی چاہیے۔ منسوخی کی تحریری تصدیق حاصل کریں اور متبادل سفر یا رقم واپسی کا مطالبہ تحریری طور پر کریں۔
اگر فوری عمرہ سفر ضروری ہو تو نئی پرواز خریدنے سے پہلے فضائی کمپنی کو مناسب متبادل فراہم کرنے کا موقع دینا اور تمام رابطوں کا ثبوت محفوظ رکھنا اہم ہے۔
برطانوی سول ایوی ایشن اتھارٹی کی منسوخ پروازوں سے متعلق سرکاری رہنمائی مسافروں کے حقوق کی وضاحت کرتی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں فضائی صورت حال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور مختلف فضائی کمپنیوں کے روٹس اور بحالی کی تاریخیں ایک جیسی نہیں۔ اس لیے ستمبر یا آنے والے مہینوں میں عمرہ کی تیاری کرنے والے برطانوی مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف پرانی بکنگ تصدیق پر انحصار نہ کریں بلکہ اپنی پرواز کی موجودہ حیثیت مسلسل چیک کرتے رہیں۔
کم قیمت پرواز کی منسوخی نے متاثرہ زائرین کے سامنے ایک مشکل حقیقت رکھ دی ہے: مذہبی سفر کو بچانے کے لیے بعض خاندانوں کو اب فوری طور پر اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ رقم کی واپسی اور متبادل سفر کے حقوق کا درست استعمال ان کے لیے انتہائی اہم ہو گیا ہے۔
