(تکبیر نیوز—- برطانیہ، بولٹن)
برطانیہ کے شہر بولٹن میں ایک معروف امام کے گھر پر ہونے والے خوفناک آتش گیر حملے نے مقامی کمیونٹی کو ہلا کر رکھ دیا۔ نقاب پوش حملہ آور نے رات کی تاریکی میں گھر کو آگ لگانے کی کوشش کی، تاہم گھر میں موجود بچوں اور اہل خانہ کی بروقت کارروائی نے ممکنہ بڑے سانحے کو ٹال دیا۔
یہ واقعہ بدھ کی رات تقریباً 9 بج کر 20 منٹ پر بولٹن کے علاقے شارپلز میں ایسٹ گروو ایونیو پر پیش آیا۔ خوفناک حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آ گئی ہے جس میں ایک شخص ہیلمٹ اور سیاہ لباس میں گھر کے ڈرائیو وے پر آتا دکھائی دیتا ہے۔
حملہ آور نے گھر کو کیسے نشانہ بنایا؟

بولٹن امام حملہ
فوٹیج کے مطابق حملہ آور ایک موٹر سائیکل پر آیا جبکہ اس کے ساتھ ایک اور شخص بھی موجود تھا۔ ایک شخص موٹر سائیکل پر انتظار کرتا رہا جبکہ دوسرا گھر کے قریب پہنچا۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور ایک بیگ اور ایک بوتل نما چیز اٹھائے ہوئے تھا۔ اس نے گھر کے سامنے موجود حصے پر آتش گیر مائع چھڑکا اور پھر آگ لگا دی۔
چند لمحوں بعد اس نے جلتی ہوئی چیز گھر کی طرف پھینک دی اور پھر گھر کی کھڑکی توڑنے کے لیے بھی کوئی شے پھینکی۔ اس کے بعد مزید آتش گیر مائع ڈالا گیا جس سے آگ تیزی سے پھیل گئی۔
کارروائی مکمل کرنے کے بعد حملہ آور اپنا بیگ اٹھا کر فرار ہو گیا۔
گھر میں کون موجود تھا؟

Bolton Imam
42 سالہ امام حسن پٹیل اس وقت گھر پر موجود نہیں تھے، تاہم ان کی اہلیہ، چار کم عمر بچے اور بھانجا گھر کے اندر موجود تھے۔
امام حسن پٹیل بولٹن کی معروف اسلامی درسگاہ اور مسجد تیبہ مسجد اینڈ اسلامک سینٹر کے پرنسپل برائے اسلامی تعلیمات ہیں جبکہ مسجد عائشہ میں بطور امام بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
واقعے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے حسن پٹیل نے کہا:
"میں اس واقعے سے شدید صدمے میں ہوں۔ بچے بھی خوفزدہ ہیں۔ یہ ایک پُرامن علاقہ ہے اور ہمیں پہلے کبھی کسی قسم کا مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
انہوں نے کمیونٹی کی حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ لوگ مسلسل ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کر رہے ہیں۔
بچوں نے کس طرح بڑا سانحہ روکا؟
امام حسن پٹیل کے 19 سالہ بیٹے عمیر یوسف نے بتایا کہ اگر ان کے چھوٹے بھائی فوری ردعمل نہ دیتے تو پورا گھر آگ کی لپیٹ میں آ سکتا تھا۔
عمیر کے مطابق ان کے ایک بھائی نے کھڑکی ٹوٹنے اور شور کی آواز سنی تو فوراً باہر آیا۔ اس نے ہوز پائپ اور پانی کی بالٹیوں کی مدد سے آگ بجھانا شروع کر دی۔
گھر کے دیگر افراد بھی باہر نکل آئے اور سب نے مل کر آگ پر قابو پانے کی کوشش کی۔
عمیر یوسف کا کہنا تھا:
"اگر یہ حملہ رات گئے اس وقت ہوتا جب سب سو رہے ہوتے تو شاید نتائج بہت زیادہ خوفناک ہوتے۔”
خاندان کا دعویٰ: حملہ نسلی تعصب پر مبنی ہوسکتا ہے
عمیر یوسف نے دعویٰ کیا کہ خاندان کو شبہ ہے کہ یہ حملہ نسلی تعصب کی بنیاد پر کیا گیا۔
ان کے مطابق پڑوسیوں نے دو مشکوک افراد کو موٹر سائیکل پر کئی بار گلی میں چکر لگاتے دیکھا تھا۔
انہوں نے کہا:
"ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ یہ حملہ جان بوجھ کر ہمارے گھر کو نشانہ بنا کر کیا گیا۔ حملہ آور جانتا تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔”
کمیونٹی میں خوف اور غم کی فضا
واقعے کے بعد مقامی رہائشی بڑی تعداد میں متاثرہ خاندان کے گھر پہنچے اور اظہارِ یکجہتی کیا۔
عمیر یوسف کا کہنا تھا:
"ہم سب ذہنی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ صرف ہمارا خاندان نہیں بلکہ پورا علاقہ اس واقعے سے صدمے میں ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اس مشکل وقت میں کمیونٹی نے جس طرح ساتھ دیا، اس سے ثابت ہوا کہ بولٹن ایک بڑے خاندان کی طرح ہے۔
پولیس کا مؤقف
گریٹر مانچسٹر پولیس کے سینئر تفتیشی افسر مائیک شارپلز نے کہا کہ یہ ایک ہدف بنا کر کیا گیا حملہ معلوم ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا:
"اس قسم کے واقعات ہماری کمیونٹی میں ناقابل قبول ہیں۔ خوش قسمتی سے کوئی زخمی نہیں ہوا، لیکن اس مشتبہ آتش زنی کے نتائج کہیں زیادہ سنگین ہو سکتے تھے۔”
پولیس کے مطابق عوام کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں، تاہم علاقے میں اضافی گشت شروع کر دیا گیا ہے۔
پولیس نے سی سی ٹی وی، ڈیش کیم اور دیگر شواہد رکھنے والے افراد سے معلومات فراہم کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔
بولٹن کونسل کا ردعمل
بولٹن کونسل کے ایگزیکٹو کابینہ رکن برائے مضبوط کمیونٹیز، حمید خرم نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا:
"یہ انتہائی افسوسناک اور پریشان کن واقعہ ہے۔ ہماری ہمدردیاں متاثرہ خاندان اور مقامی کمیونٹی کے ساتھ ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ کونسل پولیس کے ساتھ مل کر متاثرہ خاندان کو ہر ممکن تعاون فراہم کر رہی ہے۔
تحقیقات جاری
گریٹر مانچسٹر فائر اینڈ ریسکیو سروس کے مطابق فائر فائٹرز چند ہی منٹوں میں موقع پر پہنچ گئے تھے اور تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی کارروائی کے بعد صورتحال مکمل طور پر قابو میں لے لی گئی۔
خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم پولیس اس واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
