تکبیر نیوز (مانچسٹر): مانچسٹر کی ایک عدالت میں جاری مقدمے کے دوران استغاثہ نے بتایا ہے کہ اسٹاک پورٹ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنی اہلیہ کو برسوں تک اس کی لاعلمی میں نشہ دے کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد میں آن لائن ایسے مردوں سے رابطے کیے جو مبینہ طور پر بے ہوش یا غیر فعال خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کرنا چاہتے تھے۔
متاثرہ خاتون کے شوہر، جو اب 60 کی دہائی میں ہے، اپنے خلاف متعدد سنگین جرائم پہلے ہی قبول کر چکا ہے۔
قانونی وجوہات کی بنا پر اس شخص کا نام ظاہر نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس سے اس کی اہلیہ کی شناخت سامنے آسکتی ہے۔
شوہر نے 62 جرائم قبول کیے
عدالتی ریکارڈ کے مطابق شوہر نے مجموعی طور پر 62 الزامات میں جرم قبول کیا ہے۔
ان الزامات میں:
- ریپ
- assault by penetration
- جنسی زیادتی کیلئے خاتون کو بے ہوش کرنے کی نیت سے مادہ دینا
- دیگر جنسی جرائم
شامل ہیں۔
اسے سزا نو دیگر ملزمان کے مقدمے کے اختتام کے بعد سنائی جائے گی۔
استغاثہ: اہلیہ کو برسوں تک علم نہیں تھا
Manchester Minshull Street Crown Court میں پراسیکیوٹر Louise Oakley KC نے جیوری کو بتایا کہ متاثرہ خاتون کو برسوں تک معلوم نہیں تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔
استغاثہ کے مطابق شوہر ابتدا میں اس وقت فائدہ اٹھاتا تھا جب خاتون گہری نیند یا بے ہوشی کی حالت میں ہوتی، اور بعد میں اس نے اسے جان بوجھ کر بے ہوش کرنے کیلئے مختلف مادوں کے استعمال کے طریقوں پر آن لائن تحقیق بھی کی۔
عدالت میں منشیات یا طریقہ استعمال کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں، تاہم تکبیر نیوز حفاظتی وجوہات کی بنا پر ایسی تفصیلات شائع نہیں کر رہا۔
دوسرے مردوں کو گھر بلانے کا الزام
استغاثہ کے مطابق کم از کم 2023 سے شوہر نے دوسرے مردوں کو بھی اپنے گھر بلانا شروع کیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے خاتون کے بے ہوش ہونے کے دوران اس کے ساتھ جنسی جرائم کیے۔
استغاثہ کا مؤقف ہے کہ ان افراد کو معلوم تھا کہ خاتون رضامندی دینے کی حالت میں نہیں تھی۔
ایک ملین سے زائد تصاویر اور ویڈیوز
عدالت کو بتایا گیا کہ پولیس نے شوہر کے موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل مواد کی جانچ کے دوران ایک ملین سے زائد تصاویر اور ویڈیوز دریافت کیں۔
استغاثہ کے مطابق یہ مواد برسوں کے دوران ہونے والے مبینہ جرائم کی تفصیل محفوظ کرتا تھا۔
نو مردوں کا ٹرائل جاری
اس کیس میں اس وقت نو مردوں کا ٹرائل جاری ہے۔
ان میں شامل ہیں:
- Philip Wild، 59
- Mohammed Sabir، 28
- Jordan Wallace، 31
- Alan Keelan، 42
- Robert Stewart، 70
- Richard Townsend، 38
- Jonathan Kirk، 43
- David Graves، 60
- Daniel Rayner، 42
یہ تمام افراد اپنے خلاف الزامات سے انکار کرتے ہیں۔
سات پر گھر جا کر جرائم کرنے کے الزامات
استغاثہ کے مطابق سات افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے جوڑے کے گھر جا کر خاتون کے خلاف جنسی جرائم کیے۔
ان افراد پر مختلف الزامات میں:
- rape
- attempted rape
- assault by penetration
- conspiracy to rape
شامل ہیں۔
تمام ملزمان نے ان الزامات میں قصوروار نہ ہونے کی استدعا کی ہے۔
دو افراد پر آن لائن سازش کے الزامات
استغاثہ کے مطابق David Graves اور Daniel Rayner پر خاتون کے ساتھ براہ راست جسمانی رابطے کا الزام نہیں بلکہ آن لائن رابطوں کے ذریعے مبینہ سازش اور مدد فراہم کرنے کے الزامات ہیں۔
وہ بھی تمام الزامات سے انکار کرتے ہیں۔
معاملہ کیسے سامنے آیا؟
عدالت کو بتایا گیا کہ تحقیقات کا آغاز اس وقت ہوا جب خفیہ صحافیوں نے Telegram کے ایک ایسے گروپ تک رسائی حاصل کی جہاں مبینہ طور پر بے ہوش خواتین کے ساتھ جنسی سرگرمیوں میں دلچسپی رکھنے والے افراد گفتگو کرتے تھے۔
اس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے شوہر کو گرفتار کیا اور اس کے ڈیجیٹل آلات قبضے میں لیے۔
چار دیگر افراد جرم قبول کر چکے
اس کیس سے منسلک چار دیگر مرد پہلے ہی مختلف جرائم میں جرم قبول کر چکے ہیں۔
ان میں:
- Keith Fotheringham
- Karl Lindsay
- Sean Peers
- Graham Brougham
شامل ہیں۔
ان کی سزاؤں کا فیصلہ الگ عدالتی کارروائی میں کیا جائے گا۔
عدالت میں اہم قانونی نکتہ
استغاثہ نے جیوری پر واضح کیا ہے کہ بے ہوش یا غیر فعال شخص قانونی طور پر رضامندی نہیں دے سکتا۔
دفاعی ٹیموں کو ابھی اپنا مکمل مؤقف پیش کرنا ہے اور نو ملزمان کے خلاف مقدمہ جاری ہے۔
عدالت کی جانب سے کسی بھی زیر سماعت ملزم کو ابھی مجرم قرار نہیں دیا گیا۔
