تکبیر نیوز (لندن): برطانوی وزیراعظم کے قومی سلامتی مشیر جوناتھن پاول کی اہلیہ، مصنفہ اور صحافی سارہ ہیلم کی فلسطین ایکشن سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹ کو میٹروپولیٹن پولیس اس بات کا تعین کرنے کے لیے دیکھ رہی ہے کہ آیا مزید تفتیش کی ضرورت ہے یا نہیں۔
سارہ ہیلم نے جمعرات کو ایکس پر آئرش مصنفہ سیلی رونی کے معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا تھا: “خدا ہم مصنفوں کی مدد کرے جو فلسطین اور فلسطین ایکشن کی حمایت کرتے ہیں۔”
فلسطین ایکشن برطانیہ میں کالعدم ہے
فلسطین ایکشن کو 5 جولائی 2025 سے برطانیہ میں انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت کالعدم تنظیم قرار دیا گیا تھا۔ سرکاری قواعد کے مطابق کسی کالعدم تنظیم کی رکنیت، اس کے لیے حمایت مانگنا یا لاپرواہی سے اس کی حمایت کا اظہار کرنا فوجداری جرم بن سکتا ہے، جس پر سنگین سزا ہو سکتی ہے۔
تاہم سارہ ہیلم پر اس وقت کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کی پوسٹ کا صرف جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ باقاعدہ تفتیش کی ضرورت بنتی ہے یا نہیں۔
ڈاؤننگ اسٹریٹ نے خود کو بیان سے الگ کر لیا
برطانوی حکومت کے ترجمان نے واضح کیا کہ سارہ ہیلم کے خیالات ان کے ذاتی خیالات ہیں اور وہ حکومت کی کسی حیثیت میں نمائندگی نہیں کرتیں۔
سارہ ہیلم کے شوہر جوناتھن پاول وزیراعظم کے قومی سلامتی مشیر ہیں، تاہم حکومت نے ان کی اہلیہ کے بیان کو سرکاری پالیسی یا حکومتی مؤقف سے جوڑنے سے انکار کیا ہے۔
سیلی رونی کے معاملے کے بعد تنازع
یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب مصنفہ سیلی رونی نے فلسطین ایکشن کی حمایت سے متعلق اپنے مؤقف کے بعد کہا کہ ان کی کتابوں کی برطانیہ میں فروخت متاثر ہوئی ہے۔
سارہ ہیلم نے اسی معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے اپنی پوسٹ کی، جس کے بعد ان کے الفاظ سیاسی اور قانونی بحث کا موضوع بن گئے۔
پولیس سے کارروائی کا مطالبہ
کیمپین اگینسٹ اینٹی سیمیٹزم نے پولیس سے سارہ ہیلم کے بیان کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
تنظیم کا مؤقف ہے کہ کالعدم تنظیم کی مبینہ حمایت کے معاملات میں قانون سب پر یکساں لاگو ہونا چاہیے۔
ہزاروں گرفتاریاں ہو چکی ہیں
فلسطین ایکشن پر پابندی کے بعد اس تنظیم کی مبینہ حمایت سے متعلق بڑی تعداد میں گرفتاریاں ہو چکی ہیں۔
برطانوی ہوم آفس کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 تک 2,819 گرفتاریاں فلسطین ایکشن کی حمایت سے متعلق تھیں۔
پولیس اب سارہ ہیلم کی پوسٹ کے الفاظ اور قانونی تناظر کا جائزہ لے رہی ہے۔ ابھی تک کسی گرفتاری، الزام یا مقدمے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
