تکبیر نیوز (لندن): برطانیہ کے سابق قومی سلامتی مشیر لارڈ رِکٹس نے خبردار کیا ہے کہ حکومت کو روس کی جانب سے ممکنہ ہائبرڈ حملوں سے ملک کی اہم تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔
لارڈ رِکٹس کے مطابق توانائی، ٹرانسپورٹ اور فضائی ٹریفک کنٹرول جیسے اہم شعبوں کو زیادہ محفوظ بنانے کے ساتھ دفاعی اخراجات میں بھی اضافہ ضروری ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے حملے اب زیادہ لاپرواہ اور زیادہ خطرناک ہوتے جا رہے ہیں اور مستقبل میں ان کے نتیجے میں انسانی جانوں کا نقصان بھی ہو سکتا ہے۔
ہائبرڈ حملے کیا ہوتے ہیں؟
ہائبرڈ حملوں سے مراد ایسے اقدامات ہیں جن میں روایتی فوجی حملے کے بجائے سائبر حملے، تخریب کاری، حساس نظام کو متاثر کرنے اور غلط معلومات پھیلانے جیسے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ کسی ملک کو غیر مستحکم کیا جا سکے۔
برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی فائیو کے سربراہ سر کین میک کالم نے 13 اکتوبر کو اپنے سالانہ سکیورٹی جائزے میں کہا تھا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران غیر ملکی ریاستوں سے متعلق ایم آئی فائیو کے مقدمات کی تعداد چار گنا بڑھ چکی ہے۔ انہوں نے روس کو برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف سب سے نمایاں ریاستی خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ روسی فوج اور انٹیلی جنس ادارے ہائبرڈ جنگی سرگرمیوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔
عوام کو خطرات سے آگاہ کرنے کی ضرورت
لارڈ رِکٹس نے کہا کہ وزرا کو برطانوی عوام کو اس بارے میں واضح طور پر آگاہ کرنا چاہیے کہ مستقبل میں کس قسم کے خطرات سامنے آ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نہ صرف یوکرین کا حوصلہ توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ یورپی ممالک کے اندر بھی اعتماد اور حوصلے کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یورپ میں روایتی جنگ شروع ہونے والی ہے، لیکن سائبر حملوں، تخریب کاری اور دیگر خفیہ کارروائیوں کا خطرہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
ایم آئی فائیو پہلے سے زیادہ وسائل استعمال کر رہا ہے
سر کین میک کالم کے مطابق ایم آئی فائیو اس وقت ریاستی خطرات سے نمٹنے کے لیے سرد جنگ کے دور سے بھی زیادہ وسائل استعمال کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ روس روایتی جنگ کی حد سے نیچے رہتے ہوئے ایسے طریقے استعمال کر رہا ہے جن سے برطانیہ اور اس کے اتحادیوں پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔
برطانیہ میں رواں سال نافذ ہونے والی نئی قومی سلامتی قانون سازی کے موقع پر بھی ایم آئی فائیو نے خبردار کیا تھا کہ بعض غیر ملکی ریاستیں آگ زنی، تخریب کاری اور جسمانی تشدد جیسے طریقوں کے ذریعے برطانیہ میں لوگوں، کاروباروں اور معمولاتِ زندگی کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
فرانس بھی روسی خطرات پر خبردار کر چکا
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون بھی گزشتہ ماہ روس سے منسوب ہائبرڈ خطرات میں اضافے کی بات کر چکے ہیں۔
فرانسیسی حکومت کے مطابق اہم تنصیبات اور حساس مقامات کو سائبر اور ڈرون حملوں سے بچانے کے لیے نگرانی اور حفاظتی انتظامات بڑھائے گئے ہیں۔
برطانیہ کو دفاع اور بنیادی ڈھانچے پر توجہ دینے کا مشورہ
لارڈ رِکٹس کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو توانائی، ٹرانسپورٹ، مواصلات اور فضائی نظام جیسے بنیادی شعبوں کو ممکنہ حملوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنانا ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ برطانیہ کو یوکرین کی حمایت کرنے والے یورپی ممالک کے اتحاد میں اپنا کردار مزید مضبوط کرنا چاہیے۔
روس ماضی میں یورپ میں ہائبرڈ حملوں سے متعلق متعدد الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔
