تکبیر نیوز (لندن): برطانوی فوجی اگلے ماہ پولینڈ میں ہونے والی ایک بڑی کثیرالملکی فوجی مشق میں فرانس، جرمنی اور پولینڈ کے دستوں کے ساتھ شریک ہوں گے، جس کا مقصد یوکرین میں ممکنہ جنگ بندی کے بعد فوجی تربیت، رسد اور تعمیرِ نو کی تیاری کرنا ہے۔
برطانوی وزیرِ دفاع ویس اسٹریٹنگ نے واشنگٹن میں اعلان کیا کہ نومبر میں ہزاروں فوجی اہلکار پولینڈ میں ہونے والی مشق میں حصہ لیں گے تاکہ یوکرین کو مستقبل میں درکار فوجی تربیت اور جنگ کے بعد بحالی کے لیے تیاری کی جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق کم از کم 1,500 فوجی برطانیہ، فرانس اور جرمنی سے اس مشق میں شامل ہوں گے، جبکہ پولش افواج بھی حصہ لیں گی۔
فوج اور رسد کی منتقلی کی مشق
منصوبے کے تحت فوجی دستے اہلکاروں، خوراک، ایندھن اور دیگر ضروری سامان کی منتقلی کی مشق کریں گے۔
یہ مشق یوکرین میں فوری جنگی کارروائی کے لیے نہیں بلکہ اس ممکنہ صورتحال کی تیاری کے لیے ہے جب کسی قابلِ اعتماد جنگ بندی کے بعد یورپی ممالک یوکرین کی سلامتی میں کردار ادا کریں۔
برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں منصوبہ
برطانیہ اور فرانس پہلے ہی کولیشن آف دی وِلنگ کے تحت یوکرین کے لیے ممکنہ کثیرالملکی فورس کی تیاری میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔
برطانوی وزارت دفاع نے جولائی میں تصدیق کی تھی کہ ایک سینئر برطانوی افسر نے اس کثیرالملکی فورس کی کمان سنبھالی ہے اور رکن ممالک آئندہ مہینوں میں مشترکہ مشقیں کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
ویس اسٹریٹنگ: یوکرین آزادی کی اگلی صف ہے
ویس اسٹریٹنگ نے کہا کہ یوکرین آزادی کی جدوجہد کی اگلی صف میں ہے اور اتحادی ممالک کو روسی جارحیت کے مقابلے میں اسے کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ جنگ کے خاتمے کے بعد امن کے تحفظ کے لیے ابھی سے تیاری کر رہا ہے۔
امریکی فوج مشق میں شامل نہیں ہوگی
دستیاب رپورٹس کے مطابق اس مشق میں امریکی فوج کے شامل ہونے کا اعلان نہیں کیا گیا، جبکہ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کے درمیان اختلافات مزید نمایاں ہوئے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے روس سے متعلق نئی پابندیوں کے ایک حصے کے نفاذ کو مؤخر کیا ہے، جسے انہوں نے امریکی قومی مفاد میں قرار دیا، جبکہ زیلنسکی نے اس فیصلے کو روس کے لیے حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔
یوکرین کے لیے جنگ کے بعد سکیورٹی کی تیاری
پولینڈ میں ہونے والی مشق کا بنیادی مقصد یہ جانچنا ہوگا کہ مستقبل میں کسی ممکنہ جنگ بندی کے بعد یورپی فورس کس طرح یوکرین میں فوجی تربیت، رسد اور بحالی کے کاموں میں مدد دے سکتی ہے۔
یہ مشق ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان جنگ جاری ہے اور کسی حتمی امن معاہدے پر ابھی اتفاق نہیں ہوا۔
