تکبیر نیوز (پریسٹن): ایکَرِنگٹن سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ محمد حارث کو 44 سالہ میتھیو ویلر کے قتل کا مجرم قرار دے دیا گیا ہے، جبکہ پولیس نے فیصلہ آنے کے بعد اس کی گرفتاری کے وقت لی گئی تصویر بھی جاری کر دی ہے۔
پریسٹن کراؤن کورٹ میں جاری مقدمے کے پانچویں روز جیوری نے تقریباً ساڑھے چار گھنٹے غور و خوض کے بعد اکثریتی فیصلے سے محمد حارث کو قتل کا مجرم قرار دیا۔
واقعہ 22 اپریل کو برچ اسٹریٹ میں پیش آیا تھا، جہاں میتھیو ویلر کو حارث کی ووکس ویگن پاسات نے ٹکر ماری اور وہ گاڑی کے نیچے گھسٹتے چلے گئے۔
وہ شدید زخمی ہوئے اور اگلی صبح رائل بلیک برن اسپتال میں دم توڑ گئے۔
پولیس: گاڑی کو مہلک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا
لنکاشائر پولیس کی بڑی تحقیقات کی ٹیم کے ڈیٹیکٹو چیف انسپکٹر اسٹیو ہیری نے کہا کہ حارث کے جان بوجھ کر کیے گئے اقدامات کے نتیجے میں میتھیو ویلر کی جان گئی۔
انہوں نے کہا کہ حارث نے اپنی گاڑی کو ایک مہلک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور اس کے نتیجے میں میتھیو کی موت ہوئی۔
حارث نے قتل سے انکار کیا تھا
عدالت کو بتایا گیا کہ محمد حارث نے پہلے غیر ارادی قتل کا جرم قبول کیا تھا، تاہم اس نے قتل کے الزام سے انکار کیا تھا۔
اس کا مؤقف تھا کہ اس کا ارادہ نہ تو میتھیو ویلر کو قتل کرنے کا تھا اور نہ ہی انہیں شدید جسمانی نقصان پہنچانے کا۔
تاہم استغاثہ نے کہا کہ حارث نے غصے میں جان بوجھ کر گاڑی ان کی طرف چلائی اور اس وقت بھی گاڑی آگے بڑھاتا رہا جب ویلر اس کے نیچے پھنس کر گھسٹ رہے تھے۔
واقعے سے پہلے تلخ رویہ
عدالت کو بتایا گیا کہ میتھیو ویلر ٹاؤن سینٹر میں پیدل جا رہے تھے اور بعد ازاں حارث کی گاڑی کے قریب پہنچے۔
مقدمے کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ ویلر نے اپنی پتلون نیچے کی اور گاڑی کے بونٹ پر اپنا جسم رگڑا، جس کے بعد حارث نے گاڑی آگے بڑھائی۔
حارث نے جیوری کو بتایا کہ اس کا مقصد صرف انہیں ڈرانا تھا تاکہ وہ گاڑی سے دور ہٹ جائیں، اور اسے لگا کہ وہ گاڑی سے الگ ہو کر گر چکے ہیں۔
پرانے واقعے کی ویڈیوز بھی عدالت میں دکھائی گئیں
جیوری کو تین ہفتے قبل کے ایک الگ واقعے کی اسنیپ چیٹ ویڈیوز بھی دکھائی گئیں، جن میں ایک دوسرے شخص کی جانب سے میتھیو ویلر پر تشدد کیا گیا تھا اور حارث وہاں موجود تھا۔
حارث نے عدالت میں تسلیم کیا کہ اس نے اس تشدد کی حوصلہ افزائی کی تھی اور اس وقت اسے ایک تفریحی واقعے کے طور پر دیکھا تھا۔
سزا پیر کو سنائی جائے گی
محمد حارث کو پیر 19 اکتوبر کو اسی عدالت میں جج رابرٹ آلتھم سزا سنائیں گے۔
پولیس نے کہا ہے کہ ان کی ہمدردیاں میتھیو ویلر کے خاندان کے ساتھ ہیں، جو اس واقعے کے بعد اپنے پیارے کے غم سے گزر رہے ہیں۔
