تکبیر نیوز (لندن): لندن میں موبائل فون چوری اور چوری شدہ ڈیوائسز سے منافع کمانے والے منظم گروہوں کے خلاف میٹروپولیٹن پولیس نے اپنے سب سے بڑے آپریشن میں 700 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق ستمبر کے دوران ایک ماہ تک جاری رہنے والی کارروائی میں سینکڑوں مشتبہ چوری شدہ فون برآمد کیے گئے، 50 سے زائد وارنٹس پر کارروائی کی گئی اور 220 سیکنڈ ہینڈ موبائل فون دکانوں کا دورہ کیا گیا۔
آپریشن میں سڑکوں پر فون چھیننے یا چوری کرنے والے مشتبہ افراد، چوری شدہ سامان سنبھالنے والوں اور بیرونِ ملک بھیجنے والے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا۔
40 ہزار فون چین بھیجنے والا نیٹ ورک
پولیس کے مطابق اس سے قبل ہونے والی تحقیقات میں برطانیہ کا سب سے بڑا معلوم موبائل فون اسمگلنگ نیٹ ورک سامنے آیا تھا۔
ستمبر میں تین افراد کو مجموعی طور پر 25 سال قید کی سزا سنائی گئی، جنہیں 2024 اور 2025 کے دوران برطانیہ سے چین تک 40 ہزار تک چوری شدہ فون پہنچانے کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔
پولیس کے مطابق یہ تعداد اس عرصے میں لندن سے چوری ہونے والے تمام فونز کا تقریباً 40 فیصد بنتی ہے۔
اسلحہ، منشیات اور نقد رقم بھی برآمد
تازہ کریک ڈاؤن کے دوران فون چوری، ڈکیتی اور چوری شدہ سامان رکھنے کے شبے میں متعدد گرفتاریاں کی گئیں۔
پولیس نے کارروائیوں کے دوران منشیات، چاقو، آتشیں اسلحہ، دسیوں ہزار پاؤنڈ نقد رقم اور 110 سے زائد غیر قانونی ای بائیکس بھی قبضے میں لینے کی اطلاع دی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بعض مشتبہ افراد فون چوری کے ساتھ دیگر مجرمانہ سرگرمیوں سے بھی منسلک پائے گئے۔
تالاب میں کودنے والا مشتبہ شخص
ایک کارروائی کی سی سی ٹی وی اور باڈی کیم فوٹیج میں ایک مشتبہ شخص کو ای بائیک پر فرار ہونے کے بعد ایک تالاب میں کودتے دیکھا گیا۔
پولیس اہلکار بھی پانی میں داخل ہوئے اور چھ موبائل فون برآمد کیے جو فوائل میں لپٹے ہوئے تھے۔
پولیس کے مطابق ایسا ممکنہ طور پر فونز کے سگنلز روکنے اور ان کی لوکیشن ٹریک ہونے سے بچانے کے لیے کیا گیا تھا۔
21 سالہ مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا اور بعد میں مزید تحقیقات جاری رہنے تک پولیس ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
ایک دکان سے 100 سے زائد فون برآمد
ایک اور کارروائی میں شمالی لندن کی ایک دکان پر چھاپہ مارا گیا جس پر چوری شدہ موبائل فون رکھنے کا شبہ تھا۔
بعد کی تحقیقات میں پولیس ایک دوسرے پتے تک پہنچی، جہاں سے 100 سے زائد مشتبہ چوری شدہ فون برآمد کیے گئے اور پانچ افراد کو گرفتار کرکے ان پر الزامات عائد کیے گئے۔
فون چوری میں کمی کا دعویٰ
میٹ پولیس کے مطابق رواں سال جنوری سے اگست کے درمیان موبائل فون چوری اور ڈکیتی کے 39,793 واقعات ریکارڈ ہوئے، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد 49,136 تھی۔
اگست میں 3,963 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جنہیں پولیس نے چار سال میں اگست کی کم ترین سطح قرار دیا ہے۔
متاثرین کو نیا فراڈ خطرہ
پولیس نے ان افراد کو بھی خبردار کیا ہے جن کے فون چوری ہو چکے ہیں کہ وہ ایسے لوگوں سے محتاط رہیں جو پولیس اہلکار یا موبائل فون کمپنی کے نمائندے بن کر رابطہ کریں۔
میٹ پولیس کے مطابق مجرم اب متاثرین سے پاس ورڈز اور اکاؤنٹ کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے سوشل انجینئرنگ کے طریقے استعمال کر رہے ہیں تاکہ چوری شدہ فونز کو ان لاک کیا جا سکے۔
پولیس نے واضح کیا کہ پولیس، Apple یا کوئی بھی معتبر ادارہ متاثرین سے کبھی ایسے پاس ورڈ یا معلومات طلب نہیں کرے گا جو ان کے فون یا اکاؤنٹس تک رسائی دے سکیں۔
